عمران پیوٹن ملاقات: سب 'سائز' کاگیم ہے؟

یہ فاصلے کم ہونے کا عندیہ ہے

وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس سوشل میڈیا پرکئی حوالوں سے زیربحث ہے لیکن صدر پیوٹن سے ملاقات میں 'میز' کے سائزنے ایسی توجہ پائی جو شاید ہی کسی نے سوچی ہو۔

سوشل میڈیا پراہم ملاقات کی زیرگردش تصویرمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ درمیان میں تپائی نما چھوٹی میزکے دونوں اطراف 2،2 کرسیاں رکھی ہیں جن پرایک جانب عمران خان اورمترجم اور دوسری جانب پیوٹن خاتون مترجم کے ساتھ براجمان ہیں۔

سوشل میڈیا پراس تصویرکا موازنہ روسی صدرکی ماضی میں دیگرعالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی تصاویر کے ساتھ کیاگیا جن میں غیر معمولی طویل میز نمایاں ہے۔

ٹیبل کی طوالت کوتعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ٹویٹس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں 'چھوٹی میز' دراصل فاصلے کم ہونے کا عندیہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی رُکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ ملک نے بھی اپنی ٹویٹ میں واضح کیا کہ ، 'پاکستان اورعمران خان روس کے لیے کتنے اہم ہیں، یہ تصویرسب بتا رہی ہے'۔

جہاں فرانسیسی صدرسمیت پیوٹن کی دوسرے رہنماؤں سے ملاقات میں دوری نمایاں ہے تو وہیں کئی صارفین نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ 'نشست' بھی یاد کروائی جس میں ان کا کم وبیش پاکستانی وزیراعظم جتنا ہی پروٹوکول نمایاں ہے۔

تمام ترگمان اور اندازے اپنی جگہ لیکن یہ امکان بھی سامنے رکھاجائے کہ گزشتہ ملاقاتوں میں رُوسی صدر نے کووڈ19 کےپیش نظراحتیاطاً اس طویل ٹیبل کا انتخاب کیا ہو، جرمنی میں مقیم شاعر ومصنف عاطف توقیرنے اپنی ٹویٹ میں اس بات کی نشاندہی کی۔

وزیراعظم عمران خان کی ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ہونے والی اس 3 گھنٹے طویل ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، عالمی حالات اوردیگرامورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔

RUSSIA

Imaran Khan

Tabool ads will show in this div