اسحاق ڈارکی خواہش پرسینیٹ کاحلف لینےکی تجویزمسترد

جوابی خط اسحاق ڈار کو ارسال کر دیا گیا

چئیرمین سینیٹ نے اسحاق ڈار کی خواہش پر ان سے حلف لینے کے طریقہ کار کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

اسحاق ڈار کے بطور سینیٹر حلف لینے کےمعاملے پر لکھے گئے خط کا چئیرمین سینیٹ نے قانونی جائزہ لیا اور جوابی خط اسحاق ڈار کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کو لکھے گئے خط کا جواب تیارکر لیا گیا اوراسحاق ڈار کی فرمائش پر حلف لینے سےانکار کردیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ کے جوابی خط میں سینیٹ کے قواعد و ضوابط کو حوالہ دیا گیا ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کا ویڈیو لنک کے ذریعے حلف نہیں لیاجا سکتا جبکہ  لندن میں ہائی کمشنر کے ذریعے حلف لینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف لینے کے لئے منتخب سینیٹر کو خود ایوان میں حاضر ہونا پڑے گا۔

دس فروری کو سابق وزیرخزانہ اور موجودہ سینیٹ کے منتخب رکن اسحاق ڈار نے وطن واپسی سے معذرت کرتے ہوئے بطور رکن سینیٹ حلف اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے منتخب سینیٹر نے چیئرمین ایوان بالا صادق سنجرانی کو خط لکھا تھا جس میں بتایا گیا کہ وہ برطانیہ میں زیرعلاج ہونے کے سبب فی الحال ذاتی طور پر پاکستان نہیں آ سکتے لیکن بطورسینیٹر ورچوئل یا ویڈیو لنک کے ذریعے حلف لیا جائے اور یہ طریقہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیر استعمال ہے۔

انھوں نے اپنے خط کے ساتھ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی منسلک کیا اور حلف برداری کا متبادل طریقہ بھی تجویز کیا۔ انھوں نے کہا کہ ورچوئل طریقہ اختیار کرنا ممکن نہ ہو تو چیئرمین سینیٹ آئین کےآرٹیکل 255 کے تحت برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر یا کسی مجاز شخص کے ذریعے حلف لینے کا انتظام کریں۔

SENATE

Tabool ads will show in this div