بچوں کو موٹاپے اور شوگرسے بچانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟

سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ پر پابندی لگانے کا مطالبہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کے بیشتر اسکولوں میں کھیل کے میدان موجود نہیں، جس کے سبب بچوں میں موٹاپا بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین حیدرعلی کا کہنا ہے کہ بیشتر پرائیویٹ اور سرکاری اسکولز کے پاس کھیل کے میدان موجود نہیں لیکن پرائیوٹ اسکولز نے پلے ایریاز بنا رکھے ہیں اور سالانہ اسپورٹس ویک بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈائیبٹیز فیڈریشن کے پاکستان میں نمائندے پروفیسر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ہمارا غیر صحتمند طرز زندگی موٹاپے اور شوگر جیسے امراض کا سبب بن رہا ہے، اگر بچوں کو موٹاپے اور ذیابطیس سے بچانے کے اقدامات نہ کئے گئے تو خدشہ ہے کہ پاکستان میں شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 2045ء تک 6 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے اس موقع پر عہد میڈیکل سینٹر کریم آباد کراچی میں "سینٹر آف ایکسیلینس ان ڈائیبیٹز" کا بھی افتتاح کیا، جہاں ایک چھت کے نیچے ذیابطیس کے علاج کی تمام سہولتیں بشمول آنکھوں، گردوں اور پیروں کے معائنے سمیت لیبارٹری اور فارمیسی کی تمام سہولیات ایک چھت کے نیچے مہیا کی گئی ہیں۔

اس موقع پر عہد میڈیکل سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر بابر سعید خان، ڈاکٹر انعم دائم، ڈاکٹر مصطفیٰ جاوید اور ڈاکٹر عابد سمیت دیگر کنسلٹنٹ اور ماہرین امراض ذیابطیس موجود تھے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ کھیل کے میدان نہ ہونے کے سبب بچوں کی جسمانی سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں، بچے اسکولز سے جاکر گھروں میں ڈیجیٹل گیجیٹس کا استعمال کرتے ہیں، غیر صحتمند طرز زندگی کے سبب پاکستان میں ایک کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، اگر ان بچوں کی لائف اسٹائل موڈیفیکیشن نہیں کی گئی تو بڑھتی عمر کے ساتھ آئندہ چند برسوں میں یہ ذیابطیس کا شکار ہوجائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ذیابطیس کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہے جو آئندہ 20 سال میں دُگنی ہوجائے گی۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ اسکولز میں مصنوعی میٹھے مشروبات اور فاسٹ فوڈز پر پابندی ہونی چاہئے جبکہ حکومت ان پر  ٹیکس بڑھا دے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ذیابطیس بذات خود موت کا سبب نہیں بنتی لیکن اس مرض کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں روزانہ 14 ہزار افراد دنیا بھر میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، پاکستان میں پچھلے سال تقریباً 4 لاکھ افراد اس مرض کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مصطفیٰ جاوید کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کا طریقۂ علاج صرف یہ نہیں کہ دوا تجویز کردی، ذیابطیس کے علاج میں لائف اسٹائل اور ڈائیٹ موڈیفیکیشن بہت ضروری ہے، مریض کو دوا کے ساتھ ساتھ طرز زندگی اور خوراک کے بارے میں تفصیلی بتانا چاہئے کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق تاخیر سے سونے والے یا رات کو کام کرنیوالے افراد میں ذیابطیس ہونے کے امکانات 44 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

عہد میڈیکل سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر بابر سعید خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سینٹر آف ایکسیلینس ان ڈائبیٹیز کیئر کے 4 سینٹر قائم کرنے جارہے ہیں جو کہ عہد میڈیکل سینٹر کے پلیٹ فارم سے کام کریں گے، ان سینٹرز میں شوگر کے مرض کے حوالے سے تمام سہولیات ایک چھت کے نیچے مہیا کی جائیں گی، مریضوں کو کسی دوسری جگہ سے ٹیسٹ کروانے اور ادویات حاصل کرنے کیلئے نہیں جانا پڑے گا۔

آل پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین حیدر علی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ  بیشتر پرائیویٹ اور سرکاری اسکولز کے پاس کھیل کے میدان موجود نہیں، اسکولوں کی اکثریت اس معیار پر پورا نہیں اترتی، پرائیوٹ اسکولز نے پھر بھی پلے ایریاز بنا رکھے ہیں اور سالانہ اسپورٹس ویک بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہا محکمہ تعلیم نے کھیل کے میدان نہ ہونے والے اسکولز کی رجسٹریشن روک رکھی تھی لیکن اب وزیر تعلیم کی جانب سے اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ اب تو کراچی کے کتنے علاقوں میں کھیل کے میدان موجود ہیں۔

حیدر علی نے بتایا کہ سرکار نے 2 سال سے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈز پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا، ہم بورڈنگز اسکول نہیں ہیں جہاں بچہ گھر نہیں جاتا اور قیام و طعام بھی وہیں ہوتا ہو، ہمارے پاس تو بچہ صرف 5 گھنٹے کیلئے ہوتا ہے باقی پورا دن تو وہ گھر پر گزارتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بچہ گھر پر کتنا جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے؟، فوڈ پانڈا کے ذریعے سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈز روزانہ کی بنیاد پر بچے کھا رہے ہیں، ایسے میں موٹاپے کا شکار تو ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے کہ ٹین ایجرز کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں، 2001ء سے 2016ء کی ایک ریسرچ کے مطابق دنیا کے 81 فیصد بچے فزیکل ایکٹویٹیز سے دور ہیں، سب سے اہم بات والدین نے بچے اسکولز کو آؤٹ سورس کردیئے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بھی اسکولز کے سپرد کردی ہیں، وہ تربیت نہیں صرف گریڈنگ چاہتے ہیں، اسکولز میں بچوں کو صرف ایک دن بازاری اشیاء لانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ والدین باقی دنوں میں جو ہوم میڈ لنچ بھیجتے ہیں اس میں وہی باہر کی اشیاء زیادہ ہوتی ہیں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں اس میں جہاں اسکولز کی ذمہ داری ہے، وہیں ریاست، والدین اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان

FAT CHILDREN

ذیابیطس

Tabool ads will show in this div