اسموگ کوانسانی صحت کےلیےبڑاخطرہ قراردیاجاتا ہے

يہ ذرات انسانی بال سے بھی چھوٹے ہوتے ہيں

فضائی آلودگی کو ''اسموگ'' کہا جاتا ہے اور اس کو صحت کے ليے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

کئی ماہ پنجاب اور گردونواح میں زہريلی گيسز سے بنے خطرناک ذرات صحت کيلئے خطرہ بنے رہے۔

يہ ذرات انسانی بال سے بھی چھوٹے ہوتے ہيں اورسانس کے ساتھ پھيھپڑوں ميں جا کرجذب ہوجاتے ہيں جس کے بعد یہ سانس،گلے اور ديگر بيماريوں کا سبب بنتے ہيں۔

لاہور سميت پاکستان کے مختلف شہروں ميں ايئرکوالٹی انڈيکس مسلسل خطرناک حد سے کہيں اوپر ہے۔

ان ذرات کو آنکھوں سے نہيں ديکھا جاسکتا بلکہ يہ صرف خوربين سے نظر آتے ہيں۔ ان کو پی ايم ٹو پوائنٹ فائيوکہا جاتا ہے يعنی ان کا حجم دو اعشاريہ پانچ مائيکرو ميٹر يا اس سے بھی کم ہوتا ہے۔

ايک اور طرح سے ديکھيں تو ايک سينٹی ميٹر يعنی ہمارے ناخن جتنی جگہ پر چار ہزار پی ايم ٹو ذرات سما سکتے ہيں۔يہ ذرات نائٹروجن آکسائیڈ،سلفرآکسائیڈ، اوزون، کاربن مونوآکسائڈ جيسی زہريلی گيسوں اور ديگر زہريلے کيمکل سے بنے ہوتے ہيں۔ سانس کے ساتھ يہ پھيھپڑوں ميں جاکر وہاں جذب ہوجاتے ہيں اور خون ميں بھی شامل ہوجاتے ہيں۔

عالمی ادارہ صحت کی گائيڈ لائن کے مطابق ايک مکعب ميٹر ميں ان ذرات کی مقدار زيادہ سے زيادہ پچيس ہونی چاہيے تاہم لاہور، کراچی اور ديگر آلودہ شہروں ميں ان کی تعداد 200 سے زيادہ ہی رہتی ہے۔موسم سرما ميں جب اسموگ ہوتی ہے تو يہ 300 سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔

يونيورسٹی آف شکاگو کی ايک رپورٹ کے مطابق اگرلاہوراور کراچی ديگر شہروں ميں پی ايم ٹو کی مقدار اگر ڈبليو ايچ او کی مجوزہ سطح پر لائی جائے تو اوسط عمر ميں 5 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

POLLUTION

SMOG

Tabool ads will show in this div