سینیٹ میں فیصل واوڈا کی خالی نشست پر الیکشن کااعلان

انتخابی شیڈول جاری کر دیا گیا
Feb 16, 2022

ECP File Photo

الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں فیصل واوڈا کی خالی نشست پر الیکشن کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی شیڈول جاری کر دیا۔

انتخابی شیڈول کے مطابق پولنگ 9مارچ کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوگی۔

کاغذات نامزدگی 17 سے 19 فروری تک جمع کرائے جا سکیں گے، امیدواروں کی ابتدائی فہرست 21فروری کو جاری کی جائے گی اور امیدواروں کی حتمی فہرست 3مارچ کو جاری ہوگی۔

پولنگ 9مارچ کو صبح 9بجے سے شام 4بجے تک ہوگی۔

دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ چیلنج کرنے کی سماعت ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی نشست پر فیصلہ دیا اور62 ون ایف کے تحت فیصلہ سنایا۔

فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے کہا کہ فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی کے تھے اور وہ  اسمبلی کی نشست چھوڑ کر سینیٹر بن چکے تھے، الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں کہ وہ نا اہلی کا آرڈر جاری کرے اور الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں ہے۔

وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن 62ون ایف کے تحت فیصلہ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا اور فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں بیان حلفی جمع کروایا۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ 9 فروری کو فیصلہ سنایا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قراردیتے ہوئے 2 ماہ میں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس جمع کرانے کا حکم دیا ۔ اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹی فیکیشن بھی واپس لیا جاتا ہے۔  فیصل واوڈا کا بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو کر سینیٹ الیکشن لڑنا مشکوک تھا۔ بطور ایم این اے ووٹ ڈالنے کے بعد خود کو بطور سینیٹ امیدوار پیش کردیا۔

ای سی پی کے مطابق جوابدہ نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط حلف نامہ جمع کرایا، انہوں نےخود کو اپنے کنڈکٹ سے مشکوک بنایا، جھوٹا بیان حلفی دینے پر وہ آرٹیکل 62 ون ایف کا شکار ہوئے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ 23 دسمبر کو محفوظ کیا تھا، جو 9 فروری کو سنایا گیا۔

ECP

SENATE

Tabool ads will show in this div