نوابشاہ میں 5افراد کاقتل، لواحقین کالاشوں کے ہمراہ تیسرے دن بھی احتجاج

قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل
Feb 14, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/02/NWS-ISSUE-OVERALL-PKG-14-02-Mukkaram.mp4"][/video]

نوابشاہ ميں زمين کے تنازع پر 5 افراد کے قتل کیخلاف لواحقين کا دھرنا تيسرے روز بھی جاری ہے۔ قومی شاہراہ پر ٹريفک کی آمد و رفت معطل ہونے سے گاڑيوں کی قطاريں لگ گئيں۔ گورنر سندھ عمران اسماعيل نے واقعے کا نوٹس ليتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ پی ٹی آئی رہنماء حليم عادل شيخ کہتے ہيں مظاہرين 3 دن سے لاشيں ليے بيٹھے ہيں، پوليس ايف آئی آر تک نہيں کاٹ رہی۔

نوابشاہ ميں زمين کے تنازع 5 افراد کے قتل کے بعد لواحقين کا لاشوں سميت دھرنا تيسرے روز بھی جاری ہے۔ احتجاج کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹريفک کی آمد و رفت معطل گاڑيوں کی لمبی قطاريں لگ گئيں۔

مظاہرين نے زرداری برادری کے بااثر افراد کيخلاف ايف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔ متاثرين سے یکجہتی کيلئے سندھ اسمبلی ميں اپوزيشن ليڈر حليم عادل شيخ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب غلام رحیم دھرنے ميں شريک ہوئے۔

حليم عادل شيخ کا کہنا ہے کہ متاثرین تین دن سے بیٹھے ہوئے ہیں، لواحقين کی مرضی کے مطابق ايف آئی آر درج کی جائے۔

گورنر سندھ عمران اسماعيل نے واقعے کا نوٹس ليکر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے لوگوں ميں خوف  ہراس پھيل رہا ہے۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی ميں بھی سانحہ نوابشاہ کا ذکر ہوا تو اسپيکر نے مائيک بند کرديئے، اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، پی ٹی آئی ارکان نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

جوائنٹ اپوزیشن نے نوابشاہ واقعے کيخلاف قرار داد بھی سندھ اسمبلی میں جمع کرادی، ملزمان کی فوری گرفتاری اور مقدمے کے اندراج کا بھی مطالبہ کرديا۔

NAWABSHAH MURDER

نوابشاہ

Tabool ads will show in this div