خاتون کی حق مہرمیں گھرلینےکی درخواست واپس فیملی کورٹ کوارسال

دونوں پارٹیاں اپنے اپنے گواہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں پیش کریں

لاہور ہائیکورٹ نے سابق بیوی کو حق مہر میں گھر نہ دینے سے متعلق دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیملی کورٹس  کو ہدایت کی کہ  حق مہر کی ادا شدہ رقم اور مکمل حالات کا آرڈر شیٹ میں ذکر ضرور کیا جائے۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے شازیہ پروین کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔

درخواست گزار کے مطابق سابق  شوہر نے محبت میں نکاح نامے میں حق مہر میں گھر دینے کا تحریر کیا۔اب سابق شوہر سےعلیحدگی ہوچکی ہے مگر اس نے حق مہر میں گھر نہیں دیا۔

درخواست گزار کے مطابق سابق شوہر نے باقی حق مہر ادا کردیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ خاتون کے سابق شوہر کے مطابق گھر دینے کا نکاح نامے میں ذکر نہیں کیا جبکہ خاتون کےسابق شوہر نے بتایا کہ سابق بیوی جھوٹ بول رہی ہے اور حقائق کو چھپایا رہی ہے۔

عدالت نےکاروائی کرتے ہوئے مزید لکھا کہ فیملی کورٹس کو چاہیے کہ حق مہر کی ادا شدہ رقم اور مکمل حالات کا آرڈر شیٹ پرلازمی کرے۔ فیملی کورٹ اور سیشن کورٹ میں موجودہ کیس میں ادا شدہ حق مہر کی رقم اور دیگر حالات کو واضح آرڈر شیٹ کا حصہ نہیں بنایا۔

یہ بھی کہا گیا کہ عدالت خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے درخواست فیملی کورٹ کو ارسال کرتی ہے،دونوں پارٹیاں اپنے اپنے گواہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں پیش کریں۔

Family Court

Tabool ads will show in this div