میاں چنوں میں ہجوم کےہاتھوں شہری کی ہلاکت،وزیراعظم نےنوٹس لےلیا

قتل کے واقعات کو نہایت سختی سے کچلیں گے
Feb 13, 2022

خانیوال میں توہین مذہب کے الزام میں پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں شہری کے قتل پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنے ہاتھوں ميں لينے والوں کو معاف نہيں کريں گے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی فرد یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائے گی۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے قتل کے واقعات کو نہایت سختی سے کچلیں گے۔


وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آئی جی پنجاب سے میاں چنوں واقعے کے ذمہ داروں اور فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔


واضح رہے کہ ہفتہ 12 فروری کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میاں چنوں کے گاؤں جنگل ڈیرہ میں مغرب کی نماز کے بعد اس طرح کے اعلانات ہوئے کہ ایک شخص نے قرآن کے اوراق پھاڑ کر انہیں نذرِ آتش کردیا، اعلانات سن کر سیکڑوں مقامی افراد جمع ہوگئے۔


پرتشدد ہجوم نے مبینہ ملزم کی کوئی بات نہیں سنی اور اسے پہلے درخت سے لٹکایا اور پھر اینیٹیں مار مار کر قتل کردیا۔


سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ایک شخص کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم نے گاؤں پہنچ کر ملزم کو حراست میں لے لیا تھا لیکن ہجوم نے اسے ایس ایچ او کی حراست سے چھین لیا۔

مذکورہ واقعے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایف آئی آر

واقعہ سے متعلق درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کیے گئے شخص کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر شہری کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

فواد چوہدری

واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ اگر معاشرے میں اسکول، تھانوں اور منبر کی اصلاح نہ ہوئی تو بڑی تباہی کے لیے تیار رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بارہا اپنے نظام تعلیم میں تباہ کن شدت پسندی کی جانب توجہ دلائی ہے، سیالکوٹ اور میاں چنوں جیسے واقعات عشروں سے نافذ تعلیمی نظام کا حاصل ہیں یہ مسئلہ قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تنزلی کا بھی ہے۔

سیالکوٹ واقعہ

خیال رہے کہ ہجوم کے تشدد کے حالیہ واقعے سے محض 2 ماہ قبل ہی ایک سری لنکن منیجر کی سیالکوٹ میں فیکٹری ورکرز کے ہاتھوں تشدد سے موت کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرلی تھی۔


ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سخت ڈسپلن رکھنے والے پریانتھا کمارا کو مذہبی جلسے میں شرکت کی دعوت والا پوسٹر ہٹانے پر توہین مذہب کا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کی لاش کو آگ لگادی گئی تھی۔

Tabool ads will show in this div