دنیا کو گمراہ کرنے کی ایک اور بھارتی کوشش ناکام

ای یوڈس انفولیب سےملتے جلتےنام سے جعلی ویب سائٹ تیار

بھارتی حکومت نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی کرنے والی ویب سائٹ کی نقل بنا ڈالی۔

بھارت نے عیاری سے یورپی یونین کےساتھ بھی ہاتھ کر دیا ۔ سرکاری سرپرستی میں دنیا کو گمراہ کرنے کی نئی کوشش کے تحت ای یو ڈس انفو لیب سے ملتے جلتے نام سے جعلی ویب سائٹ تیار کرلی۔

جعلی ویب سائٹ کا انکشاف کرنے والے آسٹریلوی صحافی سی جے ورلیمن کا کہنا ہے کہ جعلی ویب سائٹ کا انکشاف گزشتہ سال ہوا، ویب سائٹ پر کشمیر سے متعلق ایک رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے۔

جعلی ویب سائٹ پر بی جے پی کی مودی حکومت کی کھل کرحمایت جبکہ مخالفین کی کردارکشی بھی ہوتی ہے۔  آسٹریلوی صحافی سی جے ورلیمن کا کہنا ہے کہ بھارتی جعل سازی کے انکشاف کے بعد مجھ پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کا الزام لگایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2020 میں یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے انکشاف کیا تھا کہ یورپ میں 15 سال سے انڈین مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے 750 جعلی مقامی میڈیا آگنائزیشنز وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے کے تحت فعال ہے۔

بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز سے کام کرنے والے ادارے ای یو ڈس انفو لیب کے رپورٹ کے مطابق سری واستوا گروپ سے چلائے جانے والے اس نیٹ ورک کی پہنچ کم از کم 116 ممالک اور نو مختلف خطوں تک ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور برسلز میں یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کے کوشش کرتا ہے۔

تحقیق کا دوسرا سب سے اہم انکشاف انڈیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی اے این آئی کے اس نیٹ ورک میں کردار کے بارے میں تھا۔ رپورٹ کے مطابق اے این آئی کی مدد سے انفلوئنس آپریشن پر سے شک کم کیا گیا اور مذکورہ نیوز ایجنسی پر چلنے والی خبروں کے مصدقہ ہونے پر شکوک نہیں اٹھے۔

EUROPEAN UNION

Tabool ads will show in this div