کراچی:اسمگل شدہ سامان کی منڈی کوکس کی سرپرستی حاصل ہے؟

منڈی میں چھالیہ اور ایرانی کوکنگ آئل کی فروخت سب سے زیادہ ہے

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن یوسف گوٹھ بس ٹرمینل ویسے تو شہر میں اسمگلنگ کے ہر قسم سامان کی سب سے بڑی منڈی ہے تاہم چھالیہ اور ایرانی کوکنگ آئل کی فروخت سب سے زیادہ ہے۔

کراچی میں یوسف گوٹھ بس ٹرمینل اسمگل شدہ سامان کا ایک ہول سیل بازار بن لیا گیا مگر کسٹم اور پولیس سب خاموش ہیں۔

بلدیہ یوسف گوٹھ کا بس ٹرمینل مسافر بسوں میں اسمگل شدہ سامان لانے اور ترسیل کا محفوظ مقام ہے اسے کسٹم اور پولیس کے لئے سونے کی چڑیا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ٹرمینل میں ہر طرف کو کروڑوں روپے مالیت کی چھالیہ ، کپڑا ، کھانے پکانے کا تیل اور بہت کچھ دکھائی دیگا۔

سماء انویسٹیگیشن ٹیم بس ٹرمنل پر چھالیہ کے خریدار بن کر چھالیہ مافیا کے ڈیلر کے پاس گئے تو دیکھا کہ بس ٹرمنل پر ہی بڑی آزادی کے ساتھ چھالیہ کی کٹائی کھلے عام جاری تھی۔ بس ٹرمنل سے باہر برابر والی گلی میں اسمگل شدہ آیئٹم کی ہول سیل مارکیٹ بھی موجود ہے۔

بس ٹرمنل پرپولیس کی چوکی بھی اس غیرقانونی دھندے کو روکنے کے لئے بنائی گئی تھی لیکن ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس نان کسٹم پیڈ آئیٹم سے ملکی مشعیت کو کتنا نقصان ہورہا ہے کیوںکہ اس سے ان کی اپنی جیبیں بھر رہی ہیں۔

یہاں فروخت ہونے والے تیل ، دودھ ، بسکٹس ، کیکس ، چاکلیٹ اور ٹوفیو کا کوئی معیار بھی چیک نہیں کیا جاتا۔ اس کے بنانے میں کیا اجزا استعمال کیے گئے؟ یہ فائدے مند ہے یا نقصان دے ؟ کچھ چیک نہیں ہوتا بس مارکیٹ میں فروخت کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔

کسٹم اور پولیس صرف اس اسمگل شدہ مال کے یہاں پہنچنے میں پیسے نہیں کما رہے بلکہ اس مال کی ترسیل کا بھی الگ لاکھوں روپے کا دھندا ہے۔ پولیس اور کسٹم کی بھاری رشوت وصولی کے بعد کیے جانے والا اسمگل شدہ سامان کا یہ دھندا شہریوں کی جان کے لئے بھی نقصان دے ثابت ہوسکتا ہے اسلئے اس دھندے میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

Kakrachi

Smuggled Oil

Smuggled goods

یوسف گوٹھ بس ٹرمینل

Tabool ads will show in this div