پاکستان کو تعلیمی شعبے کےلیے بجٹ بڑھانے پر زور

تعلیم تک رسائی کے چیلنجز پر اےڈی بی رپورٹ تیار
ADB - afp

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کو تعلیمی شعبے کے لیے بجٹ بڑھانے پر زور دیا ہے۔

اے ڈی بی کی پاکستان میں تعلیم تک رسائی کے چیلنجز پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑ 30 لاکھ یا 44 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم آئینی ذمہ داری ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ اور بلوچستان میں پرائمری تا ہائی داخلے کی شرح سب سے کم ہے، سندھ میں اسکول سے باہر بچوں میں 58 فیصد اور صوبہ بلوچستان میں 78 فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 19 سال میں پرائمری انرولمنٹ کی شرح 59 سے 94 فیصد ہوئی تاہم 70 فیصد بچے ہی گریڈ 5 تک پہنچ پاتے ہیں۔ اے ڈی بی نے تعلیم کے لیے جی ڈی پی کے 2.9 فیصد مساوی بجٹ ناکافی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو تعلیمی شعبے کے لیے بجٹ بڑھانے پر زور دیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور این جی اوز کے ذریعے تعلیم کی فراہمی کی تجویز بھی دی ہے۔ اسکے علاوہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، انتظامی عہدوں پر خواتین کا ہونا ضروری قرار دیا ہے۔

مزید برآں کم آمدن والے طبقے کے لیے کیش ٹرانسفر پروگرام میں توسیع کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

ADB report

اے ڈی بی رپورٹ

Tabool ads will show in this div