سینیٹ اجلاس:حکومتی وزیر نے صدارتی نظام کی حمایت کردی

نتائج نہیں مل رہے تومتبادل نظام پرسوچو،علی محمد خان
Feb 08, 2022
Parliament House [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/02/Ali-Mohammad-Khan-On-Presidental-System-Montage-08-02-Shahbaz.mp4"][/video]

وزير مملکت علی محمد خان کا کہنا ہے کہ اپوزيشن کو صدارتی نظام پر مروڑ کيوں ہو رہا ہے اگر ہميں پارليمانی نظام کے ثمرات نہيں مل رہے تو صدارتی نظام پر سوچ بچار کريں۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہم جنرل يحیٰ، ضياالحق يا پرويزمشرف والے نظام کی بات نہيں کرتے کيونکہ وہ صدارتی نظام تھے ہی نہيں، صدارتی نظام وہ ہوتا ہے جو اليکشن کميشن سياسی جماعتوں کے درميان کراتا ہے۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پارليمانی نظام کے ثمرات نہيں مل رہے تو صدارتی نظام پر سوچ بچار کريں، سپرپاور امريکا ميں بھی صدارتی نظام ہے۔

واضح رہے کہ حکومتی ارکان پہلے صدارتی نظام  کی باتوں کو افواہیں قرار دے کر مسترد کرتے رہے تاہم وزیرمملکت علی محمد خان نے اب خود سینیٹ میں پہلی مرتبہ صدارتی نظام کی بات کرکے اپوزیشن کے وسوسوں کو حقیقت ثابت کردیا۔

حکومتی بینچوں سے صدارتی نظام کے حق میں دلیلیں اپوزیشن کو ایک آنکھ نہ بھائیں، حزب اختلاف پارلیمانی نظام کے دفاع  میں ڈٹ گئی۔ رہنما پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ مسائل حل نہیں ہورہے تو اس کی وجہ حکومت کی نا اہلی ہے پارلیمانی نظام کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔

ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نظام تبدیل کرنے سے پہلے ایک بار آئین و قانون پر عمل کرکے ہی دیکھ لیں کیا پتہ اسی سےافاقہ ہو جائے اس میں کوئی صدارتی یا پارلیمانی نظام کی بات نہیں ہے۔

حکومتی ارکان کو تو یہی سمجھ نہیں آرہی کہ اپوزیشن بنا آزمائے ہی صدارتی نظام سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے۔ سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا ہے کہ دونوں نظاموں کے فائدے اور نقصانات ہیں، مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس پر بحث کرنے سے اپوزیشن کو کیا مسئلہ ہے۔

Senate Session

presidential system

ali muhammad khan

سینیٹ اجلاس

Tabool ads will show in this div