کرونا وائرس: اومی کرون کے کیسز میں کمی آنا شروع

مثبت کیسز کی شرح 7.45 فیصد ہوگئی، این سی اوسی
Feb 07, 2022

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کرونا کیسز میں کمی دیکھی جارہی ہے، ٹرینڈ نیچے جارہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پانچویں لہر اپنی انتہاء کو چھوکر اب نیچے کی جانب جارہی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کرونا وائرس اب ختم ہوچکا، ہمیں احتیاط کرتے رہنا ہوگی۔

این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 779 ٹیسٹ کئے گئے اور کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 3 ہزار 338 رہی، اسی طرح کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4 ہزار 905 تھی۔

این سی او سی کے مطابق کرونا وائرس کی شرح بھی کم ہوکر 7.45 فیصد ہوگئی، کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 11، لاہور 8.81 اور اسلام آباد 7.98 فیصد تک آگئی ہے، مظفرآباد میں کرونا کیسز کی شرح سب سے زیادہ 40 فیصد اور مردان میں 20 فیصد رپورٹ ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن شہروں میں اومی کرون کیسز دسمبر کے اختتام سے رپورٹ ہونا شروع ہوئے وہاں اب ٹرینڈ نیچے جارہا ہے، پاکستان میں اومی کرون کا پہلا کیس 13 دسمبر کو رپورٹ ہوا تھا اور یہ تشخیص کراچی کی خاتون میں ہوئی تھی۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہوں نے دسمبر میں ہی بتادیا تھا کراچی میں جنوری کے اختتام پر اومی کرون کیسز کی انتہاء ہوگی اور این سی او سی کے جاری اعداد و شمار میں یہی دیکھا جارہا ہے کہ 27 سے 30 جنوری تک کرونا کیسز کا جو ٹرینڈ اوپر کو تھا اب نیچے جارہا ہے، کراچی میں کرونا کیسز کی جو شرح 44 فیصد تک جاچکی تھی اب وہ کم ہوکر 11 فیصد تک آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا بھر میں یہی دیکھا ہے کہ اومی کرون کے کیسز کا گراف ایک دم سے تیزی سے اوپر کو گیا ہے لیکن 4 ہفتوں بعد یہ گراف نیچے آنا شروع ہوگیا، یہی رجحان کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی رہا، پاکستان کے جن شہروں میں بعد میں کیسز رپورٹ ہوئے وہاں اب پیک نظر آرہا ہے، جیسا کہ کے پی اور کشمیر کے کچھ شہروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

رانا جواد اصغر نے کہا کہ امید ہے بہتر ویکسینیشن، علاج اور دواؤں کے نتجے میں اب رواں برس کرونا وائرس مینیج ایبل ہوجائے گا، بس ضروری ہے شہری احتیاط جاری رکھیں، ماسک پہنیں اور انڈور وینٹی لیشن کو بہتر کرنا چاہئے۔

انڈس اسپتال میں انفیکشیس ڈیزیز کی ماہر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا ہے کہ این سی او سی کے اعداد و شمار کو دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ کرونا کیسز میں اب کمی آرہی ہے اور ویسے بھی کوئی بھی وائرس اوپر کو نہیں رہتا، ایک وقت آتا ہے کہ اس میں کمی آنا ٓنا شروع ہوجاتی ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کرونا وائرس کے مائلڈ کیسز دیکھے جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جن میں کرونا وائرس کے اثرات لمبے عرصے تک ظاہر ہورہے ہیں، ایسے افراد کو کرونا وائرس کے بعد بھی شدید کھانسی اور کمزوری کی شکایات ہیں۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے بتایا کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونیوالے افراد میں 20 قسم کی پیچیدگیاں دیکھی گئی ہیں، جن میں کھانسی، سر درد، بھولنے کی بیماری، کمزوری، ٹانگوں میں درد، چکر آنا، ڈائریا سمیت دیگر علامات شامل ہیں، سب سے زیادہ افراد میں کمزوری اور کھانسی کی شکایات دیکھی گئیں۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ جن لوگوں کی ویکسینیشن باقی ہے وہ اپنی ویکسینیشن مکمل کریں اور احتیاط کو جاری رکھیں۔

OMICRON VARIANT

این سی او سی

کرونا وائرس

اومی کرون