کالمز / بلاگ

آسٹریلین اوپن: ٹائٹل 44سال بعد آسٹریلوی کھلاڑی کی نام

بارٹی  44 سال بعد گرینڈ سلام جیتنے والی پہلی آسٹریلوی 

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی سال رواں کے پہلے گرینڈ سلام ٹو رنامنٹ آسٹریلین اوپن کے فائنل میں امریکہ کی ڈینیلی کولنز کو شکست دے کر اپنے کیریئر کا تیسرا گرینڈ سلام ٹائٹل جیت لیا۔

ایشلے بارٹی 44 سال بعد آسٹریلین اوپن جیتنے والی آسٹریلیا کی پہلی خاتون یا مرد کھلاڑی ہیں۔1978 میں آسٹریلیا کی کرسٹین اونیل اس ایونٹ کا ویمنز سنگلز ٹائٹل جیتنے والی آخری آسٹریلوی کھلاڑی تھیں۔ کرسٹین اونیل بھی بارٹی اور کولنز کا یہ فائنل دیکھنے کیلئے میلبورن پارک اسٹیڈیم میں موجود تھیں۔ ایشلے بارٹی کی یہ فتح اس لیے بھی یادگاری ہے کہ انہوں نے یہ ٹائٹل آسٹریلین اوپن میں ویمنز سنگلز کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے نام کیا ہے۔

 اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایشلے بارٹی فائنل میں ابتداء سے ہی انتہائی جارحانہ موڈ میں نظر آئی تھیں اور انہوں نے کسی گرینڈ سلام فائنل میں پہلی بار رسائی کرنے والے امریکی کھلاڑی کو پہلے سیٹ میں کورٹ میں قدم جمانے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ 25 سالہ ایشلے بارٹی کو فائنل میں شائقین کی زبردست حمایت حاصل تھیں جو مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

بارٹی نے پہلے سیٹ میں اپنی برق رفتار سروس بیک ہینڈ اور گراؤنڈ اسٹروکس سے امریکی حریف کولنز کو بے بس کر دیا جنہوں نے اس سے قبل ٹورنامنٹ میں حیران کن کھیل پیش کیا تھا۔

ایشلے بارٹی نے ہوم کراؤڈ کی زبردست سپورٹ میں پہلے سیٹ میں انتہائی جارحانہ اور اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈینیلی کولنز کو جم کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور پہلا سیٹ تیزی کے ساتھ 6-3سے جیت کر آسٹریلین اوپن ٹرافی کی جانب  پیشقدمی کی تھی۔

 لیکن دوسرے سیٹ میں امریکی کھلاڑی کولنز نے حیران کن انداز میں کم بیک کیا اور وہ پہلے سیٹ کے مقابلے میں یکسر مختلف نظر آئیں اور اپنے جارحانہ کھیل کی وجہ سے آسٹریلوی کھلاڑی بارٹی پر مکمل طور پر حاوی ہو گئیں۔ ان کے کھیل سے ایسا دکھائی نہیں دیتا تھا کہ وہ  پہلے سیٹ میں بارٹی سے شکست کھا چکی تھیں۔ کولنز اپنی تیز سروس‘  ایسز اور ڈراپ شاٹس کے ذریعے بارٹی پر چھا گئیں اور برق رفتاری سے آسٹریلوی حریف پر 5-1 کی برتری حاصل کر لی۔

اس مرحلے پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ بارٹی اس  ٹورنامنٹ میں پہلی بار سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی لیکن  بارٹی نے حوصلہ نہیں ہارا اوروہ  زخمی شیرنی کی طرح پلٹ کر کولنز پر حملہ آور ہوئیں۔ انہوں نے اعصاب کی جنگ میں  خود پر مکمل کنٹرول رکھا اور پہلے سیٹ سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصرف مسلسل پانچ گیمز جیت کر مقابلے کو ٹائی بریکر میں  لے گئیں اور دوسرا سیٹ 7-6(7-2) سے جیت کر پہلی بار آسٹریلین اوپن  اپنے نام کرنے کا کارنامہ انجام دے دیا۔

ایشلے بارٹی اپنے کیریئر میں کئی بار ایسی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں جب انہوں نے تقریباً ہاری ہوئی بازی کو حوصلے کے ساتھ  اپنے نام کیا۔

 اس ٹورنامنٹ میں ایشلے بارٹی نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں رسائی تک  وہ کسی بھی مرحلے میں اپنی حریف کھلاڑیوں سے کوئی ایک سیٹ بھی نہیں ہاریں۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں آٹھ میچز میں صرف 30 گیمز ڈراپ کیں۔ سیمی فائنل میں بھی ایشلے بارٹی نے امریکی کھلاڑی میڈیسن کیز کے خلاف انتہائی جارحانہ کھیل پیش کیا  تھا اور سیمی فائنل میچ ایک گھنٹے میں 6-1,6-3 سے جیت لیا۔

ایگا سواٹیک کے خلاف سیمی فائنل میں کولنز کی طوفانی سروس نے کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا لیکن بارٹی کے خلاف کولنز کی طوفانی سروس کارگر ثابت  نہیں ہوئی۔  فائنل میں کولنز کی ایک سروس کی رفتار 151کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

ایشلے بارٹی  اوپن ایرا میں آسٹریلین اور ومبلڈن اوپن جیتنے والی آٹھویں خاتون ہیں۔ اس طرح  وہ ٹینس لیجنڈ اسٹیفی گراف  اور سرینا ولمیز کے ساتھ اس صف میں شامل ہوگئی ہیں۔ ان دنوں کے علاوہ یہ کارنامہ انجام دینے والی دیگر کھلاڑیوں میں مارگریٹ کورٹ‘ مارٹینا نیورا ٹیلووا‘ اسٹیفی گراف‘ مارٹینا ہنگر‘ ایمیلی موریسمو شامل ہیں۔

ایشلے بارٹی  3مختلف سرفیس پر ومینز سنگلز گرینڈ سلام اعزازات جیت چکی ہیں اور اب چوتھا گرینڈ سلام یو ایس اوپن  ٹائٹل ان کی دسترس میں نہیں ہے۔ سال رواں میں بارٹی نے اپنے تمام 11 میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آسٹریلین اوپن سے قبل ایڈیلیڈ انٹرنیشنل میں بارٹی نے ٹاپ  20 میں شامل تین کھلاڑیوں کو شکست دی تھی۔  بارٹی نے جنوری میں ایڈیلیڈ اوپن اور آسٹریلین اوپن جیتا اس طرح وہ 2014 کے بعد جنوری میں دو ٹرافیاں جیتنے والی  پہلی کھلاڑی ہے۔  جنوری 2014 میں چینی کھلاڑی لی نا نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

 عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی نے یہ اعتراف کیا کہ دوسرے سیٹ میں کولنز نے غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہوئے مجھے تقریباً اسٹمپڈ کر دیا تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور کھیل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کاماب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ میلبورن پارک میں اس جیت نے میرا دیرینہ خواب پورا کر دیا کیونکہ گھر میں ٹرافی  حاصل کرنے  سے زیادہ بڑی خوشی کوئی نہیں ہوتی۔ اگر  44 سال بعد کوئی آسٹریلوی  اپنی سرزمین پر ٹائٹل جیتے تو مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔

ایشلے بارٹی  کا کہنا ہے کہ ہوم گراؤنڈ میں گرینڈ سلام جیتنے پر اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔

 آسٹریلین ٹینس لیجنڈ راڈ لیور‘ بارٹی کی آئیڈیل اور سابق گرینڈ سلام چیمپئن ایوانے گولا گونگ کاؤلی‘ جوڈی ڈالٹن‘ لیٹن ہیوٹ‘‘ پیٹ کیش‘  پیٹرک رافٹر  فائنل میچ دیکھنے کیلئے میلبورن پارک  ایرینا میں موجود تھے۔ ایشلے بارٹی کی فتح کی  خوشی اس وقت مزید  بڑھ گئی  جب انہوں نے اپنی آئیڈیل گولا گونگ کے ہاتھوں سے ٹرافی وصول کی۔

  آسٹریلین اوپن فائنل میں رسائی سے کولنز پہلی بار ٹاپ 10 میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی نمبر ایک کھلاڑی بھی بن گئیں۔  اس سے قبل ڈینیلی کولنز کی کسی بھی گرینڈ سلام ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی سیمی فائنل تک رسائی تھی۔ کولنز نے 2019 میں آسٹریلین اوپن سیمی فائنل کھیلا تھا جہاں جمہوریہ چیک کی  پیٹرا کیوٹووا نے انہیں شکست دی تھی جبکہ ڈینیلی کولنز نے اس وقت کی عالمی نمبر دو  جرمن اسٹار اینجلک کیربر اور کیرولین گارسیا کو زیر کیا تھا۔

کولنز نے آسٹریلین اوپن 2022  کے سیمی فائنل میں فرنچ اوپن چیمپئن ایگا سواٹیک‘ کوارٹر فائنل میں  ایلزے کورنیٹ اور ایلیسی مارٹینز کو  ہرایا تھا۔

آسٹریلین اوپن 1978  کے ویمنز فائنل میں کرسٹین او نیل نے  امریکہ کی بیٹسی نیگلسن کو زیر کیا تھا۔ کرسٹین اونیل اپنے کیریئر میں  اس کے سوا کبھی آسٹریلین اوپن سمیت کسی بھی گرینڈ سلام ٹورنامنٹ میں تیسرے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھیں۔ وینڈی ٹرنبل 1980  کے آسٹریلین اوپن ویمنز فائنل میں رسائی کرنے والی آخری آسٹریلوی خاتون تھیں جن کو فائنل میں چیکو سلواکیہ کی حنا مانڈلیکووا کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔

مارک ایڈمنڈسن  1976 میں آسٹریلین اوپن کا مینز سنگلز ٹائٹل  جیتنے والے آخری آسٹریلوی مرد تھے جنہوں نے فائنل میں  ہموطن جان نیو کومب کو شکست دی تھی۔ سابق عالمی نمبر ایک لیٹن ہیوٹ 2005 میں آسٹریلین اوپن کے فائنل میں رسائی کرنے والے آخری آسٹریلوی تھے جن کو فائنل میں روس کے مراٹ سافن نے چار سیٹ کے مقابلے میں شکست دی تھی۔ اس کے بعد مینز اور ویمنز سنگلز کیٹیگری میں کوئی بھی آسٹریلوی  اس ایونٹ کے فائنل میں رسائی نہیں کر سکا  تھا۔

بارٹی نے فائنل جیتنے کے بعد سب سے پہلے اپنی ڈبلز پارٹنر اور ہم وطن کیسی ڈیلیکووا سے جا کر گلے ملی اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ کیسی ٹینس  چھوڑ چکی ہے اور اب وہ چینل 9 پر ٹینس کمنٹیٹر ہے۔ بارٹی کا کہنا ہے کہ میں کیسی سے بہت زیادہ متاثر ہوں اور میری کامیابیاں اس کی حوصلہ افزائی کی مرہوں منت ہیں۔ کیسی ڈیلیکووا  اور بارٹی 2012 میں پہلی بار ڈبلز پارٹنر کی حیثیت سے منظر عام پر آئی تھیں۔ اس وقت بارٹی کی عمر 15 سال تھی۔

ان دونوں نے تین گرینڈ سلام ڈیلزایونٹس کے فائنلزمیں رسائی کی تھی لیکن ڈبلز ٹائٹل اپنے نام نہیں کر پائی تھیں۔ 2015 میں بارٹی نے ٹینس چھوڑ کرویمنز کرکٹ  میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا تو کیسی ہی  ایشلے بارٹی کو دوبارہ ٹینس کورٹ میں لائی تھیں اورانہوں ے بارٹی کو قائل کیا  تھا کہ وہ ٹینس کورٹ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔کیسی کی یہ بات ایشلے بارٹی نے سچ  ثابت کر دکھائی ۔ بارٹی کا کہنا ہے کہ میں اپنی ہر فتح  پر عزیز ترین سہیلی کیسی کی شکر گزار ہوں جس نے میری زندگی کو تبدیل کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔  بارٹی کیسی کو اپنی مینٹور قرار دیتی ہیں۔

کرونا وائرس کے سخت رولز کی وجہ سے ایشلے بارٹی نے گزشتہ سال اپنا ٹینس سیزن وقت سے قبل ہی ختم کر دیا تھا اور انہوں نے  کوالیفائی کرنے کے باوجود ڈبلیو ٹی اے کے سیزن کے اختتامی ٹورنامنٹ سمیت کئی ایونٹس میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ وہ2021 میں ٹینس ٹورنامنٹس  میں  شرکت کیلئے چھ ماہ سے زائد عرصے آسٹریلیا سے باہر رہی تھیں اور واپسی پرانہیں ہوٹل میں انتہائی سخت قرنطینہ کرنا پڑا تھا۔ بارٹی نے حکام سے اپنے گھر پر قرنطینہ کرنے کی درخواست کی تھی جس کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

  ایشلے بارٹی نے اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام 2019 میں فرنچ اوپن جیتا تھا اور گزشتہ سال انہوں نے ومبلڈن میں دوسرا گرینڈ سلام ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ وہ گزشتہ سال ٹوکیو اولمپکس میں بارٹی ٹاپ سیڈڈ اور فیورٹ تھیں لیکن انہیں حیران کن طور پر پہلے ہی راؤنڈ میں ہسپانوی کھلاڑی سارہ سوریبیس ٹورمو نے شکست دے کر ان کا اولمپکس گولڈ میڈل جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا تھا۔ اولمپکس  ویمنز ڈبلز میں بارٹی نے سٹورم سینڈرز کے ساتھ کوارٹر فائنل تک رسائی کی تھی تاہم  بارٹی  مسکڈ ڈبلزایونٹ میں جان پیئرز کی پارٹنر شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

گزشتہ سال یو ایس اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں امریکہ کی شیلبی روجرز نے ایشلے بارٹی کو تین سیٹ کے سخت مقابلے میں شکست دی تھی جبکہ 2021 کے آسٹریلین اوپن کوارٹر فائنل میں ایشلے بارٹی کو جمہوریہ چیک کی عالمی نمبر 25کیرولینا موچووا نے تین سیٹ میں ہرا کر اپ سیٹ کر دیا تھا۔

آسٹریلین اوپن حسب روایت ابتدائی روز سے ہی اپ سیٹ سے بھرپوررہا اورکئی ٹاپ کھلاڑی شروع کے مراحل میں غیر متوقع طور پر  ٹورنامنٹ سے باہرہو گئیں۔ سیڈ 6اینیٹ کونٹاویٹ‘  سیڈ 11 صوفیہ کینن‘ سابق عالمی نمبر اورگرینڈ سلام چیمپئن اینجلک کیربر‘ پیٹرا کیوٹووا‘ کوکو گاؤف‘ یو ایس اوپن رنرز اپ لیلیٰ فرنانڈس  پہلے راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہوئیں۔

دوسرے راؤنڈ میں ہارنے والی سیڈڈ کھلاڑیوں میں سابق گرینڈ سلام چیمپئن گاربین موگورورزا‘ ایلینا ریباکینا‘یوایس اوپن چیمپئن ایما رڈوکانو‘ اولمپک چیمپئن بلینڈا بینچچ  اورسارہ سوریبیس ٹورمو شامل تھیں۔ انستاسیا پاؤلیو چنکووا‘ دفاعی چیمپئن ناؤمی اوساکا‘  ایلینا سویٹو لینا‘  ڈاریا کاسٹکینا‘  یلینا اوسٹاپنکو‘  ویرونیکا کیڈرمیٹووا‘ کامیلا جیورجی‘  مارکیٹا وینڈروسووا تیسرے راؤنڈسے آگے نہیں بڑھ پائیں۔ ماریہ سکاری‘  سیمونا ہالیپ‘ ایلیسی مارٹینز‘  وکٹوریہ آزارینیکا کو چوتھے راؤنڈ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

 ایشلے بارٹی  ویمنز ٹینس کی عالمی رینکنگ میں مسلسل تیسرے سیزن میں ٹاپ پوزیشن پربراجمان ہیں اور دوسری پوزیشن پر موجود اریانا  سبالینیکا پر تین ہزار سے زائد پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ  اس پوزیشن پر طویل عرصے براجمان رہیں گی۔

ایشلے بارٹی 8331 پوائٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ  اریایانا سبالینیکا 5698 پوائنٹس دوسرے‘ باروبور کراجسیکووا5533 پوائنٹس تیسرے‘  ایگاسواٹیک 4456 پوائنٹس چوتھے‘ کیرولینا پلسکووا 4452 پوائنٹس پانچویں‘ پاؤلا بیڈوسا 4429 پوائنٹس چھٹے‘ گاربین موگورورزا 4195 پوائنٹس ساتویں‘ ماریہ سکاری 4071 پوائنٹس آٹھویں‘ اینیٹ کونٹاویٹ 3871 پوائنٹس نویں اور ڈنیلی کولنز 3071 پوائنٹس کے ساتھ دسویں نمبر پر ہیں۔ کولنز آسٹریلین اوپن سے قبل 29ویں نمبر پر تھیں۔انہوں نے 20 درجے لمبی چھلانگ لگائی ہے۔ انس جابر ٹاپ 10  سے باہر ہوکر  11ویں نمبر پر چلی گئیں۔

Australian open

Ashleigh Barty

آسٹریلین اوپن

ایشلے بارٹی

Tabool ads will show in this div