لتاکی آخری رسومات میں شرکت کرنے والےشاہ رُخ پرالزام عائد

بھارتی صحافی کی ٹویٹ نےطوفان کھڑاکردیا

بھارت کی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکرگزشتہ روز92 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں ،اس موقع پرپورے بھارت میں سوگ کا عالم دیکھا گیا لیکن گلوکارہ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے شاہ رُخ خان کو کچھ الگ ہی صورتحال کاسامنا کرنا پڑا۔

لتا کے انتقال کی خبرسوشل میڈیا پرٹاپ ٹرینڈ بن گئی اور دنیا بھرمیں موجود ان کے پرستاروں نے گہرے رنج وغم کااظہارکیا، پورےاعزاز کے ساتھ اداکی جانے والی اُن کی آخری رسومات میں وزیراعظم نریندرمودی سمیت ملک بھرسےمعروف شخصیات نے شرکت کی جن میں بالی ووڈ کےکنگ خان شاہ رُخ بھی موجود تھے۔

سوشل میڈیا پرایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں شاہ رخ اوراُن کی منیجرمیت کے قریب کھڑے ہیں، جہاں اداکار کی منیجرپرنام کےاندازمیں ہاتھ جوڑے کھڑی ہیں وہیں شاہ رُخ نے بطورایک مسلمان گلوکارہ کے لیے دُعائیہ ہاتھ بلن کرکررکھے ہیں۔

دُعامانگنے والے شاہ رُخ نےاس کے بعد اپنا ماسک اُتارکرمیت پرپھونک ماری جسے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے کچھ الگ ہی رنگ دے ڈالا۔

صحافی اورنیشنلسٹ چیروبھٹ نے ویڈیوکلپ شیئرکرتےہوئے لکھا کہ، 'یہ کون سا کلچرہے؟ شاہ رخ کولتادیدی کی میت پرتھوکتے ہوئے دیکھا گیا'۔

بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ارن یادونے بھی اپنی ٹویٹ میں یہی سوال اٹھایا۔

جہاں بالی ووڈ پرایسا الزام عاد کیے جانےوالی ٹویٹس سامنے آئیں وہیں بھارتیوں سمیت بہت سےصارفین نے اس انوکھی منطق والوں پرواضح کیا کہ دراصل شاہ رُخ خان لتا منگیشکر کی میت پر کچھ پڑھ کر پھونک رہے تھے۔

بھارت میں پرستش کی حد تک پسند کی جانے والی لتا منگیشکر کو حکومت کی جانب سے 1969 میں ملک کے تیسرے بڑے سول ایوارڈ بدما بھشن ، 1999 میں دوسرے بڑے سول ایوارڈ پدما ویبھشن اور 2001 میں سب سے اعزاز بھارت رتنا سے نوازا گیا۔

لتامنگیشکرکےانتقال پربھارتی حکومت نے قومی سطح پر 2 روزہ سوگ منانے کا اعلان ہے،اس دوران قومی پرچم بھی سرنگوں رہے گا۔

lata mangeshkar

Tabool ads will show in this div