جنسی حملوں کاجرم ثابت، لارڈ نذیراحمد کو ساڑھے 5سال قید

انہیں جنوری میں مجرم قرار دیا گیا تھا

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لیڈر اور ہاؤس آف کامنز کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد کو ایک لڑکے پر جنسی حملے اور لڑکی کے ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر 5 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ ان پر یہ الزامات 1970ء کی دہائی کے تھے۔

رپورٹ کے مطابق لارڈ نذیر احمد کو 1970ء کی دہائی میں ایک لڑکے کیخلاف سنگین جنسی حملے اور ایک کم عمر لڑکی کے ریپ کی کوشش کے الزام میں جنوری میں قصور وار قرار دیا گیا تھا، اب برطانوی عدالت نے انہیں اس جرم میں 5 برس 6 ماہ قید کی سزا سنادی۔

لارڈ نذیر احمد ان مقدمات میں جنوری میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی، جبکہ اس کیس میں ان کے دو بھائی 71 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم دونوں کو مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے نااہل سمجھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لارڈ نذیراحمد تقریباً 45سال پرانے کیس میں مجرم قرار

شیفلڈ کراؤن کورٹ کی سماعت میں قرار پایا کہ ریپ کے یہ واقعات روتھرہیم میں پیش آئے جب نذیر احمد جوان تھے۔ خاتون نے 2016ء میں پولیس سے رابطہ کیا تھا، جس کے ان کی متاثرہ مرد سے بھی فون پر بات ہوئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ایک خاتون نے شیفلڈ کراؤن کورٹ کو بتایا کہ نذیر احمد جو پہلے لارڈ احمد آف روتھرہیم تھے، نے ان پر اس وقت حملہ کیا جب وہ 16 یا 17 سال کے تھے تاہم میں اس وقت ان سے بہت کم عمر تھی۔

لارڈ نذیر پر اسی عرصے کے دوران ایک لڑکے پر بھی جنسی حملے کا الزام ہے، جس میں انہیں عصمت دری کی کوشش کے 2 الزامات اور ایک ریپ کا مجرم پایا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں شواہد سامنے لانے میں مسائل کی وجہ سے پہلے مقدمے کی سماعت روک دی گئی تھی۔

بی بی سی کے مطابق لارڈ نذیر احمد نے نومبر 2020ء میں اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب کنڈکٹ کمیٹی کی رپورٹ میں پایا گیا کہ انہوں نے خود سے مدد مانگنے والی ایک مجبور خاتون کا جنسی اور جذباتی استحصال کیا تھا۔

LORD NAZIR AHMED

برطانیہ

لارڈ نذیر احمد

Tabool ads will show in this div