آئی ایم ایف کا پاکستان کوٹیکس اورتوانائی شعبےمیں اصلاحات پرزور

سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے افراط زر میں کمی لانے پر بھی زور

IMF_artwork_

آئی ایم ایف نے پاکستان کو ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے چھٹے معاشی جائزے کی منظوری اور 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی پر جاری بیان میں کہا کہ ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ قرض پروگرام کے تحت بجٹ سپورٹ کیلئے جاری کردہ مجموعی رقم 3 ارب ڈالر ہوجائے گی۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق سال 2022 میں معاشی بحالی کا عمل جاری رہے گا۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا امکان ہے تاہم مہنگائی میں بتدریج کمی آنے سے پہلے تیزی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ 22-2021 میں مہنگائی 10.2 فیصد کے ڈبل ڈیجیٹ میں برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ روزگار بڑھانے کیلئے پیداوار، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی کو مضبوط بنانے پر زور بھی دیا۔

اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کی آزادی اورخود مختاری میں اضافہ خوش آئند ہے جس سے مرکزی بینک قیمتوں اور مالی استحکام کیلئے مینڈیٹ پرعمل کرسکےگا۔ آئی ایم ایف نے سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعےافراطِ زر میں کمی لانے پر بھی زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کےمطابق پاکستان میں کرونا کی پہلی لہر کے بعد معاشی سرگرمیاں تیزی سےبحال ہوئیں تاہم 2021 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مہنگائی کا دباؤ بڑھا ہے۔

ایکسچینج ریٹ میں کمی سے مقامی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی ڈپٹی ایم ڈی اور قائم مقام چیئرپرسن اینٹونیٹ سیہ نے کہا کہ کرونا چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہےتاہم عدم توازن میں اضافےکےساتھ خطرات بدستور قائم ہیں۔

 آئی ایم ایف نےانکم ٹیکس،جی ایس ٹی  اور بجلی شعبے میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔ مزید یہ کہ ذخائر بڑھانے،مالی دباؤ سےنمٹنے کیلئے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنا ہوگا، ریونیو میں اضافے سے انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کیلئے وسائل پیدا ہونگے۔

 آئی ایم ایف نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حکومت کی توجہ سرکاری اداروں میں اصلاحات، بدعنوانی کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔

مزید برآں پائیدار ترقی کیلئےپالیسیوں اور اصلاحات کا بروقت اور مستقل نفاذ ضروری ہے۔کرونا وباء کے پھیلاؤ میں تیزی،سخت عالمی مالیاتی حالات،موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافے کو بڑے چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ شوکت ترین نے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اگلے ماہ 1 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کرنے کا پلان ہے۔ اگلے مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 5 سے 6 فیصد ہے، متوازن اور پائیدار ترقی کی صورت میں کسی اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہیں ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس وقت بجٹ خسارہ ملکی پیداوار کا 6.1 فیصد ہے اوراگلے سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے پانچ سے سوا پانچ فیصد تک لانے کا ہدف ہے جس کا مقصد اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کو جامع پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ایک بار پائیدار گروتھ شروع ہوگئی تو اگلے 20 سے 30 سال ترقی دیکھیں گے۔

IMF loan

آئی ایم ایف قرض پروگرام

اصلاحات

Tabool ads will show in this div