کراچی:سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیرقانونی منصوبوں کی تحقیقات کاآغاز

پیٹرول پمپ اور تجارتی منصوبوں کیلئے زمین کااسٹیٹس تبدیل کیاگیا
فائل فوٹو

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے شاہراہ فیصل کے قریب سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی (ایس ایم ایچ ایس) میں غیرقانونی پیٹرول پمپ اور تجارتی منصوبوں کی تحقیقات شروع کردیں۔

سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی وہی علاقہ ہے جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت 17 منزلہ نسلہ ٹاور منہدم کیا گیا تھا، جو قبضے کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔

سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی (ایس ایم پی اے) کی بھی اسکروٹنی ہوگی کیونکہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی سوسائٹی کے ماسٹر پلان میں غیر قانونی تبدیلیوں کی تحقیقات کررہا ہے۔

سماء ٹی وی کے مطابق سوسائٹی کے رہائشی پلاٹوں کو پیٹرول پمپ اور دیگر تجارتی منصوبوں کی تعمیر کیلئے تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زمین کا استعمال تبدیل کرنے کے پیچھے ایک اہم شخصیت کا ہاتھ ہے۔

ایف آئی اے نے ایس ایم پی اے اور ایس ایم ایچ ایس کے افسران کو وضاحت کیلئے دستاویزات کے ساتھ طلب کیا ہے۔

ماسٹر پلان کو مبینہ طور پر متعدد بار غیرقانونی طریقے سے تبدیل کیا گیا، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو تمام ریکارڈ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے آغاز نے ایس ایم پی اے اور ایس ایم ایچ ایس کے حکام کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے جنوری میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کو بھیجے گئے لیٹر میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پرسندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی شرقی میں ’’کرپشن کے الزامات / بے ضابطگیوں‘‘ پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان پلاٹوں جنہیں "کمرشل میں تبدیل کیا گیا"، جائیدادوں اور ایمنٹی پلاٹس کی تفصیلات طلب کی ہیں، جن کا ذکر منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں کیا گیا ہے۔ عہدیداروں سے ان پلاٹوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کو کہا گیا ہے جنہوں نے "اپنے اصل رقبہ کے علاوہ اضافی زمین حاصل کی"۔

حکام کو 21 جنوری 2022ء تک مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا گیا تھا تاہم اب تک اس معاملے میں بہت تھوڑی پیشرفت ہوئی ہے۔

سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی

ایف آئی اے

Tabool ads will show in this div