اسرائیل کا نظام حکومت نسلی تعصب پر مبنی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

رپورٹ میں عالمی فوجداری عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ
Feb 02, 2022

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمین اور جائیداد ضبط کرنے، ماورائے عدالت قتل اور انہیں حقوق سے محروم رکھنے کی نسلی تعصب پر مبنی پالیسی پر گامزن ہے۔

دو سو سے زائد صفحات پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی نظام چلا رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی فوجداری عدالت سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ریاست ایسی پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے جو فلسطینیوں کے خلاف ظلم اور جبر کا نظام قائم کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس کو یہ رپورٹ بنانے میں 4 برس لگے۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جنگی اور معاشی معاونت بند کرے۔ عالمی فوجداری عدالت اسرائیل اور حماس کی جانب سے تنازعات کے دوران انسانیت کے خلاف ہونے والے کسی بھی ممکنہ جرم کی تحقیقات کرے۔

رپورٹ کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ان متعدد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے جو اسرائیل پر نسلی تعصب، فلسطینیوں کی جائیداد پر قبضہ اور حقوق سے محروم کرنے کی پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام لگاتی آئی ہیں۔

غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے فلسطینی حکام نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ فلسطینیوں کی زندگی کی درست عکاسی کرتی ہے البتہ اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کو سختی سے رد کیا ہے اور ایمنسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو واپس لے۔

Israeli-Palestinian conflict

اسرائیل

ایمنسٹی انٹرنیشنل

Tabool ads will show in this div