پری زاد کی آخری قسط نے رُلا دیا

شائقین نے پسندیدہ لمحات شیئرکیے

بڑی اسکرین پراپنے پسندیدہ ڈرامے سے محظوظ ہونے والے ڈرامہ سیریل 'پری زاد' کے مداح گزشتہ روز ٹی وی پردکھائی جانے والی آخری قسط سے اپنے پسندیدہ لمحات سوشل میڈیا پر شیئرکررہے ہیں۔

ڈرامے کی سیکنڈ لاسٹ ایپی سوڈ 25 جنوری 2022 کو نشرکی گئی جس کے بعد ہم ٹی وی کی جانب سے آخری قسط 28 جنوری کو سینما گھروں میں دکھائی گئی۔

گزشتہ سال جولائی سے نشرکیے جانے والا پری زادحالیہ ڈراموں میں سب سے زیادہ زیربحث رہا،جس نے اپنی منفرد کہانی کی بدولت ناظرین اورناقدین کو اپنی طرف بھرپورطریقے سےمتوجہ کیا ، کاسٹ کی پرفارمنس کوسراہنے کے علاوہ مقبولیت کا اہم سبب چھوٹی اسکرین پرحاوی محبت کی تکون کے رجحان سے کچھ الگ دکھانا بھی ہے۔

منفرد پلاٹ ، مضبوط مکالموں، دلوں کو چھو جانے والی شاعری، اورمعاشرتی مسائل کی دیانت دارانہ عکاسی کے باعث ابتداء سے ہی ناظرین کے دلوں میں جگہ بنانے کے بعد ہرگزرتے دن کےساتھ اس کی پسندیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

مرکزی کرداراحمد علی اکبرکا کردارتو کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ عروہ حسین ، صبورعلی، عشنا شاہ ، مشال خان ، یمنیٰ زیدی، نعمان اعجاز سمیت اس ڈرامے کا ہرکردارانگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ نظرآتا ہے۔

ڈرامے کی کہانی معاشرے میں نظرانداز کیے جانے والے انسان کی جدوجہد پرمبنی تھی جوخود کو ثابت کرنے کے لیے نکلتا ہے اوراپنے بل بوتے پرمحنت وعزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

اپنے پسندیدہ ڈرامے کوالوداع کرنے والے شائقین ٹوئٹر پرآخری قسط سے اپنے پسندیدہ لمحات کو سراہ رہے ہیں، یمنیٰ زیدی اور احمد علی اکبرکے طویل اختتامی سین نے سب کی توجہ سمیٹی اور یو ٹیوب پرچند گھنٹوں میں مجموعی طورپر10 ملین افراد ڈرامہ دیکھ چکے ہیں۔

پری زاد ہاشم ندیم کے اسی نام سے لکھے جانے والے ناول پر مبنی ہے جس کے ڈائریکٹرشہزاد کاشمیری ہیں۔ ہاشم ندیم کے کریڈٹ پراس سے قبل ' خدا اورمحبت ' اور 'رقص بسمل ' جیسے ڈرامے ہیں۔

Ahmed Ali Akbar

YUMNA ZAIDI

PARIZAAD

Tabool ads will show in this div