سندھ لوکل گورنمنٹ قانون میں ترمیم کیلیے کمیٹی قائم

ناصر حسین سےجو بات ہوئی اس پر 100فیصد عمل ہوگا

Sindh Cabinet

سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ قانون 2021 اور 2013 میں ترمیم کے لیے کمیٹی قائم کر دی جوکہ قانون کا جائزہ لے کر وزیراعلیٰ سندھ کو سمری بھیجے گی۔

بدھ 2فروری کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے لوکل گورنمنٹ قانون کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت پر کابینہ کو بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ناصر ھسین شاہ نے جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی اور دیگر جماعتوں سے بات چیت کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا اور جو بات ہوئی ہے اس کو نافذ کرنے کے لیے کمیٹی قائم کر دی۔

اجلاس میں ناصر حسین شاہ کا جن نکات پر اپوزیشن پارٹیز سے اتفاق ہوا ہے ان پر 100 فیصد عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سید ناصر شاہ کی جو بات چیت ہوئی ہے اس کو لاگو کریں گے۔

کمیٹی میں وزیر بلدیات، وزیر برائے محکمہ لیبر، وزیر برائے پالیمینٹری افیئر، وزیر برائے آبپاشی اور مشیر قانون شامل ہیں۔ کمیٹی نوٹیفائی ہوگی اور اس کے ٹی او آرز بھی ساتھ نوٹیفائی ہوںگے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کی پانچ سے زائد شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے ميں آئندہ ہفتے سندھ اسمبلی اجلاس بلائے جانے کا بھی امکان ہے۔

واضح رہے کہ سندھ ترمیمی بلدیاتی قانون 2021ء میں تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان 27جنوری کی شب معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر 27 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا تھا۔

جماعت اسلامی کے دھرنے کے بعد پاک سرزمین پارٹی نے بھی فوارا چوک پر دھرنا دے دیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران ہی ایم کیو ایم پاکستان نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا۔

معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات درجہ ذیل ہیں

صحت سے متعلق ادارے دوبارہ بلدیاتی اداروں کو دے دئیے جائیں گے۔

صوبائی حکومت یو سی کو ماہانہ اور سالانہ فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔

تحریری معاہدے کے مطابق تعلیم سے متعلق ادارے بلدیاتی اداروں کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔

صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سنبھالنے کے بعد دیا جائے گا۔

موٹر وہیکل ٹیکس سے حاصل رقم شہری حکومت کے حصے کے مطابق ادا کی جائے گی۔

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں میئر اور چیرمینز کو اختیارات دئیے جائیں گے۔

سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوں گے۔

معاہدے کے تحت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کی بھرپور مدد کرے گی۔

کراچی میں اضافی پانی کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے مطالبہ پر سندھ حکومت طلبہ یونین کے کو بحال کرے گی۔

جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا اس کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

LOCAL GOVERNMENT

Tabool ads will show in this div