بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق نیپرا کی سماعت مکمل

اتھارٹی کا ہوا سے بجلی کی پیداوارمیں کمی پراظہار تشویش
Electricity
فوٹو: اے ایف پی

 

نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ کی بجلی کی قیمت میں 3.12 اضافے سے متعلق سماعت مکمل کرلی، قیمت میں اضافے کا حتمی فیصلہ چند روز بعد کیا جائے گا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 3 روپے 12 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت نیپرا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی۔

سی پی پی اے نے اتھارٹی کو بتایا کہ ایل این جی اور درآمدی کوئلے کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے، اسکے علاوہ صنعتی صارفین کے لیے پیکج کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

وائس چیئرمین نیپرا رفیق شیخ کا ونڈ اور شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ ملک میں ہوا اور سولر سے 600 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ہے، دونوں ذرائع سے صلاحیت کے مقابلے میں 3 فیصد سے بھی کم بجلی پیدا ہوئی۔

رفیق شیخ نے سی پی پی اے سے پوچھا کہ ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی کی پیداوار کم کیوں ہو رہی ہے؟ ونڈ اور سولر پلانٹس کا ٹیرف ساڑھے روپے فی یونٹ بنتا ہے، یہ 600 میگاواٹ سسٹم میں شامل ہوتے تو صارف کو 14 روپے فی یونٹ بچت مل سکتی تھی۔

نیپرا کیس آفیسر نے اتھارٹی کو بتایا کہ دسمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافہ 3.09 روپے فی یونٹ بنتا ہے، تاہم قیمت میں اضافے کا حتمی فیصلہ اتھارٹی چند روز میں کرے گی۔

Power Tariff

نیپرا

بجلی کی قیمت

Tabool ads will show in this div