اسٹیٹ بینک ترمیمی بل:اکثریت کے باجود اپوزیشن کوشکست کیسے ہوئی؟

اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری پر حکومت اپوزیشن کی شکرگزار
Jan 28, 2022
Parliament House [video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Opposition-Senate-Absent-ISb-Pkg-28-01.mp4"][/video]

سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

پارلیمنٹ کے بڑے ایوان میں اپوزیشن کے 57 اور حکومت کے صرف 42 ارکان کے باوجود اپوزیشن ارکان کی غیرسنجیدگی اور غیر حاضری کی وجہ سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ حکومت کے اپنے 4 ارکان کی عدم موجودگی کے باوجود اپوزیشن ارکان کی غیرحاضری نے پانسہ پلٹ دیا۔

اہم ترین قانون سازی کے لیے ایک طرف حکومتی رکن سینیٹر زرقا آکسیجن سلنڈر اور ڈاکٹرز کی ٹیم کے ہمراہ وہیل چیئر پر ایوان میں پہنچیں تو دوسری طرف اپوزیشن کی سنجیدگی کا یہ حال کہ خود قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کو ملتان سے آتے دیر ہوگئی۔

ن لیگی سینیٹر نزہت صادق بیرون ملک ہونے کے باعث جبکہ مشاہد حسین سید کرونا کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار شفیق ترین، بی این پی مینگل کی نسیمہ احسان، بی این پی کے قاسم رانجو، پیپلز پارٹی کے سکندر مہندرو اور  جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی غیرحاضر رہے۔

اے این پی کے عمر فاروق کاسی ووٹنگ کے دوران آٹھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔ رہی سہی کسر دلاور گروپ کے آزاد ارکان نے اپنا ووٹ حکومتی پلڑے میں ڈال کر پوری کردی۔ یوں 42 کے مقابلے میں 43 ووٹوں سے بل منظور ہو گیا۔

وفاقی وزير اطلاعات فواد چوہدری نے بل منظوری کے دوران ايوان سےغير حاضر رہنے پر اپوزيشن ليڈر يوسف رضا گيلانی کا شکريہ ادا کرديا کہا شکريہ تو پيپلزپارٹی کا بھی بنتا ہے جنہوں نے غير اعلانيہ طور پر حکومت کا ساتھ ديا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزيشن چوں چوں کامربہ اور فضل الرحمان ريلو کٹے ہيں، عمران خان اکيلا بھی ان ساری جماعتوں پر بھاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزيشن کو سينيٹ کے کاغذوں ميں نام نہاد اکثريت حاصل ہے۔

دوسری جانب سماء کے پروگرام احتساب میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پورے سیشن کے دوران اکثریت رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ رولز کو توڑا گیا جس دن اجلاس تھا اسی دن ایجنڈا دیا گیا، صبح 10بجے سینیٹ اجلاس میں پہنچنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صبح 10بجے سیشن تھا اور رات 1بجے آرڈر آف ڈے بھیجا گیا۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان کے گھر سے ہرادیا تھا ہم پر کون دباؤ ڈال سکتا ہے۔

Tabool ads will show in this div