روس اور یوکرائن جنگ بندی برقرار رکھنے پر متفق

فریقین نے 2015 میں منسک معاہدے پر دستخط کیے تھے

پیرس میں فرانس کے صدارتی محل میں بدھ کے روز یوکرائن اور روس کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ جرمنی اور فرانس کے نمائندے بھی موجود تھے۔

یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے بعد بھی یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ یوکرائنی صدر کے مشیر آندری یرماک کا کہنا تھا کہ مذکرات پرامن حل کی خواہش کے سلسلے میں ایک ٹھوس اشارہ ہے۔

 جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق روس کے سفیر دمیتری کوزاک نے اجلاس کے بعد کہا کہ تنازعے کی تشریح اور وضاحت کے حوالے سے تمام اختلافات کے باوجود ہم اس بات پر متفق ہو گئے کہ تمام فریقین مشرقی یوکرائن میں معاہدوں کے عین مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہمارے رفقاء ہمارے دلائل کو سمجھ چکے ہیں اور دو ہفتے میں ہم نتائج حاصل کرلیں گے۔

پیرس کے صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارت کار جنگ بندی کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں اور منسک معاہدہ کے نفاذ سے متعلق دیگر امور پر اختلافات کے باوجود 22 جولائی 2020 کے جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کی مکمل پابندی کریں گے۔

روس اور یوکرائن نے سن 2014 اور سن 2015 میں منسک معاہدے پر دستخط کیے تھے اگر چہ اس معاہدے کے بعد دونوں جانب سے بڑے حملے رک گئے تاہم وقتاً فوقتاً تصادم کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

یہ جنگ بندی معاہدہ یوکرائنی فورسز اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان تصادم کو ختم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ لیکن سابقہ برسوں کے دوران روس اور یوکرائن دونوں ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div