افغان شہریوں کی مددکےلیے امریکا اور یورپی یونین کےمابین اتفاق

طالبان سے رابطوں کےلیے اقوام متحدہ کا فریم ورک بھی تیار

اوسلو مذاکرات کے بعد امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے نمائندوں نے افغانستان میں انسانی بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے مشترکا اقدامات پر اتفاق کرلیا ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں انسان بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں، تاکہ مشکلات کے شکار افغانوں کی تکالیف دور کی جاسکیں۔

اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے راستے میں حائل دشواریوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیائے ضروری کی رسد فوری طور پرمشکل میں پھنسے افغانوں کو فراہم کی جائے۔

یورپی یونین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی حرمت کا خاص خیال رکھا جائے، اور یہ کہ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ افغانستان میں ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظام قائم کیا جائے، تاکہ افغانستان میں استحکام لایا جاسکے۔

اعلامیے میں طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں، جبری لاپتا کیے جانے کے حربے بند کیے جائیں، ذرائع ابلاغ کے خلاف سخت کارروائیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں، اذیت کے ہتھکنڈے اور خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم، روزگار اور محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہ دینے جیسے من مانے اقدامات واپس لیے جائیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے عبوری رابطے کےایک طریقہ کار کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد سال 2022ء کے دوران افغان عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ٹرانزیشنل انگیج منٹ فریم ورک حکمت عملی پر مبنی ایک دستاویز ہے، جس کے ذریعے اقوام متحدہ کی پوری ٹیم کی کوششوں کو مربوط انداز میں ترتیب د یا جائے گا تاکہ پریشان حال افغان عوام کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔

افغان عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حالیہ دنوں کے دوران یورپی یونین نے 268ملین یوروز کا اعلان کیا ہے۔ عطیہ دہندگان میں امریکا بھی شامل ہے جس نے 308 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، اٹلی، کینیڈا، جاپان، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، نیدرلینڈ، جمہوریہ کوریا نے بھی عطیات دیے ہیں۔ ساتھ ہی، ایشیائی ترقیاتی بینک نے خوراک کی فراہمی اور صحت اور تعلیم کے حوالے سے امداد میں 405 ملین ڈالر کی گرانٹ دینے کی منظوری دی ہے، جب کہ عالمی بینک اور افغانستان کے تعمیر نو کے ٹرسٹ کے فنڈ کی جانب سے اشیائے ضروریہ کے لیے امداد میں 280 ملین ڈالر کی ابتدائی رقم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

Tabool ads will show in this div