وزیراعلیٰ سندھ کا ایم کیوایم ریلی پرتشدد کانوٹس، تحقیقات کاحکم

مرادعلی شاہ کا امین الحق کوفون، واقعے پر افسوس کااظہار
Jan 27, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/QF-CM-NOTICE-ON-MQM-PKG-27-01-Mukkaram.mp4"][/video]

وزیراعلیٰ سندھ نے متحدہ کی احتجاجی ريلی پر پولیس تشدد کا نوٹس لے ليا، سیکریٹری داخلہ کو تحقيقات کا حکم بھی دے ديا گيا۔ مراد علی شاہ نے ايم کيو ايم رہنماء اور وفاقی وزیر امين الحق کو فون کرکے واقعے پر دکھ کا اظہار کيا۔۔ صوبائی وزیر سعيد غنی نے دعویٰ کيا کہ پاکستان سپر لیگ کی وجہ سے کارروائی پر مجبور ہوئے۔

کراچی میں بدھ کو ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ لوکل گورنمنٹ قانون کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچی، جہاں پولیس نے ریلی کے شرکاء پر لاٹھی چارج کیا اور بدترین شیلنگ کی، جس میں رکن سندھ اسمبلی صداقت عباسی سمیت ایک درجن سے زائد مرد و خواتین زخمی ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم کارکنوں پر پولیس تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر پرنسپل سيکريٹری نے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کيلئے سيکريٹری داخلہ کو خط لکھ ديا۔ جس ميں کہا گيا ہے کہ اس بات کا تعين کيا جائے کہ سياسی جماعت نے پريس کلب کے بجائے وزيراعلیٰ ہاؤس کا رخ کيوں کيا؟، ہوٹلوں ميں انٹرنيشنل کھلاڑی ٹھہرے ہوئے تھے، انتظاميہ اور پوليس کی غفلت کہاں ہوئی؟، خواتين اور مظاہرين پر طاقت کے استعمال کی وجوہات بتائی جائیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی صداقت حسين پر تشدد کرنے والوں کا پتہ چلا کر 3 روز ميں وزيراعلیٰ کو رپورٹ پيش کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے متحدہ رہنماء امين الحق کو فون کرکے واقعے پر دکھ کا اظہار کيا، کہا کہ اگر کوئی جاں بحق ہوا ہے تو پوسٹ مارٹم سے وجوہات کا علم ہوجائے گا۔

ادھر صوبائی وزیر سعيد غنی کا دعویٰ ہے کہ ریلی کی وجہ سے پی ايس ايل ٹيميں پريکٹس نہيں کرسکيں۔

سعيد غنی نے مزيد کہا کہ کارروائی کی وجہ ريڈ زون ہوتی تو جماعت اسلامی کيخلاف بھی ايکشن لیتے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سعید غنی نے واقعے کی تمام تر ذمہ داری ایم کیو ایم پاکستان پر عائد کی تھی۔

Tabool ads will show in this div