پاک افغان بارڈر پر باڑ مقامی لوگوں نے ہٹائی،معید یوسف

ٹی ٹی پی کے ساتھ سیز فائر معاہدہ ختم ہوگیا،معید یوسف

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/NA-Foreign-Affairs-Committee-Isb-Pkg-27-01.mp4"][/video]

مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ ہٹانے میں کابل انتظامیہ کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ وہ مقامی لوگوں کا کام تھا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے قومی سلامتی پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ معاشی ترقی، جموں و کشمیر اور بیرونی قرضوں سے نجات ہے کہا سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو اس پالیسی کی آنرشپ لینا ہوگی۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ کئی چیزیں وفاق نے کرنی ہیں کئی چیزیں صوبوں نے کرنی ہیں۔ کئی منسٹریز اور اداروں کا رول ہوگا لیکن اگر امپلیمنٹیشن نہیں ہوگی پھر تو یہ صفحات صرف ایک ڈاکومںٹ ہیں۔

ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف دہشتگرد گروپوں نے افغانستان میں نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے، ٹی ٹی پی کا کئی دہائیوں کا اثرورسوخ راتوں رات ختم نہیں ہوگا۔ پاکستان اور ٹی ٹٰی پی کے درمیان ایک ماہ کا سیز فائر معاہدہ ہوا جسے ٹی ٹی پی نے ختم کردیا۔

مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ گورننس کو قومی سلامتی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا گیا لیکن تعلیم کو اس میں شامل کیا گیا ہے، منظم جرائم اور ہائبرڈ وار کے موضوعات بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشی خودمختاری قومی سلامتی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ قرضوں کے اثرات خارجہ پالیسی پر پڑتے ہیں۔

چيئرمين کميٹی احسان اللہ ٹوانا کا کہنا تھا کہ ملک میں اہم مسئلہ عملدرآمد کا رہا ہے تاہم اتنے عرصے کے بعد روڈ میپ بنانا قابل تحسین ہے تاہم اس کی کامیابی اس کے اوپر ہے کہ کتنی اچھی عملداری ہوتی ہے۔

Tabool ads will show in this div