پہلی ششماہی میں معاشی ترقی کی رفتار 5فیصدتک پہنچ گئی

اگلے چند ماہ مہنگائی ڈبل ڈیجیٹ میں برقرار رہے گی
Jan 27, 2022
[caption id="attachment_2431648" align="alignnone" width="800"]Trade فوٹو: اے ایف پی[/caption]

موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی ترقی کی رفتار 5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اگلے چند ماہ مہنگائی ڈبل ڈیجیٹ میں برقرار رہے گی۔

وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آوٹ لک رپورٹ جاری کر دی جس میں اومی کرون کی نئی لہر اور بیرونی مالی دباو کو ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021-22 کی پہلی ششماہی میں معاشی شرح نمو 4.8 فیصد کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں اوسطاً 5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

بتدریج معاشی بحالی کے باوجود معیشت کو اومی کرون وائرس کی نئی لہر میں تیزی، بڑھتی مہنگائی اور بیرونی مالی دباو جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح 12.3 فیصد رہی اور آنے والوں مہینوں میں بھی یہ ڈبل ڈیجیٹ میں رہنے کا خدشہ ہے، وجہ عالمی سطح کموڈیٹی پرائسز میں اضافہ ہے جس کا زور کچھ عرصے بعد ٹوٹنے کی آس ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ڈالر 17 روپے 74 پیسے مہنگا ہوا، ڈالر ریٹ 160.75 روپے سے بڑھ کر 176.49 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ چھ ماہ میں ترسیلات زر میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، حجم 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

برآمدات اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی بڑھ گئی تاہم درآمدات میں 36.4 فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ 6 ماہ میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی 9.1 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق  اس دوران صنعتی پیداوار میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا۔ ترقیاتی اخراجات 45 فیصد اضافے سے 434 ارب روپے رہے۔ زرمبادلہ زخائر 2.25 ارب ڈالر بڑھ کر 22.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ زرعی قرضوں کی فراہمی میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ 641 ارب جاری کیئے گئے۔ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 4.67 فیصد اضافہ ہوا۔ تعداد 12 ہزار 778 تک پہنچ گئی۔

Tabool ads will show in this div