اسرائیل کے ساتھ تعاون کےلیے تیار ہیں ،ترک صدر

ترک صدر طیب ایردوآن کا ملکی ٹی وی کو انٹرویو

[caption id="attachment_2275334" align="alignnone" width="800"] فوٹو: الجزیرہ[/caption]

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے متحدہ عرب امارت اور اسرائیل کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیروزگ آئندہ ماہ ترکی کا دورہ کریں جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ حکومت اسرائیل کے ساتھ مختلف شعبہ جات بالخصوص قدرتی گیس کی تجارت میں تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ترک صدر کا کہنا ہے کہ کچھ معاملات پر اختلافات کے باوجود بھی باہمی سفارتی و تجارتی روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ترک صدر اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں جس کا ایک مقصد اسرائیلی قدرتی گیس کا حصول بھی ہے۔ مشرقی بحیرہ روم سے یورپ آنے والی اسرائیلی قدرتی گیس کی تجارت کے حوالے سے انقرہ کا یونان اور قبرص سے سخت مقابلہ ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے مارچ سن 1949 میں اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا اور یوں وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا تھا، جس نے اس یہودی ریاست کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بات کی تھی۔

ترک صدر کے ان بیانات پر اسرائیلی دفتر خارجہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل بھی اپنی خارجہ پالیسی میں کچھ تبدیلی لاتے ہوئے مسلم ممالک سے تعلقات میں بہتری کا متقاضی نظر آ رہا ہے۔

Tabool ads will show in this div