سپریم کورٹ بارکی تاحیات نااہلی کےخلاف آئینی درخواست دائر

اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے

Supreme Court

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Supreme-court-of-pakistan-remarks-on-descalificacion-case-SAMAA-TV-27-Jan-2022.mp4"][/video]

سپریم کورٹ بارنے تاحیات نااہلی کےخلاف آئینی درخواست دائرکردی ہے۔

صدرسپریم کورٹ بار احسن بھون نے تاحیات نااہلی کےخلاف درخواست دائرکی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ تاحیات نااہلی اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے،آرٹیکل184/3 کے تحت عدالت بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی ہے۔

یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ آرٹیکل184کی شق3کے تحت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں ملتا۔ فیصلےکے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔۔

درخواست گزار نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نا اہلی متعلقہ حلقہ کے ووٹرز کی بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سماء سے بات کرتے ہوئے ماہر قانون بيرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپريم کورٹ بار کی دائر کی گئی درخواست کی کوئی اہميت نہيں ہے اور يہ مسترد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آئين ميں واضح ہے کہ تاحيات نااہلی ہوگی اورسپريم کورٹ کہہ چکی ہے کہ آئين ميں تبديلی پارليمنٹ کا کام ہے۔

بیرسٹرعلی ظفر نے یہ بھی بتایا کہ تاحيات نااہلی ختم کرنے کےليے ترميم پارليمنٹ ميں لانا ہوگی۔

بیرسٹرعلی ظفرنےتجویز دی کہ سپريم کورٹ بار کو تاحیات نااہلی ختم کروانے کے لیے پارليمنٹ ميں درخواست دينی چاہئے۔

Tabool ads will show in this div