بھارتی فلمسازنےگوگل کےسی ای اوکیخلاف مقدمہ درج کروادیا

یہ کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے

تصویر: اے ایف پی

بھارتی فلمسازسنیل درشن نے گوگل کے سی ای اواور بھارتی نژاد امریکی شہری سندرپچائی سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹراورفلمساز سُنیل درشن نے اپنی بنائی فلم 'ایک حسینہ تھی، ایک دیوانہ تھا' کو یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، سُنیل کا دعویٰ تھا کہ یہ کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

سنیل کے مطابق انہوں نے ابھی تک اپنی فلم کے حقوق کسی کو فروخت نہیں کیے نہ ہی اسے ریلیز کیا ہے تاہم یہ یوٹیوب پر دستیاب ہے اور اس کے لاکھوں کی تعداد میں ویوز ہیں۔

سنیل نے مزید کہا کہ وہ گوگل کا احترام کرتے ہیں لیکن کمپنی حقیقی تخلیق کاروں کے ساتھ مہربان نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ ، 'میں اس بات کا ذمہ دار سندر پچائی کو ذمہ دار سمجھتا ہوں کیونکہ وہ گوگل کی نمائندگی کرتے ہیں، اپنی فلم کے ایک ارب سے زیادہ ویوزدیکھے لیکن تشویش کا اظہارکرنے کے باوجود کمپنی کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی' ۔

سنیل درشن نے عدالت میں استدعا کی کہ یوٹیوب پرویڈیوزاپ لوڈ ہونے کی وجہ سے کروڑوں روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا لہذا عدالت گوگل اور یوٹیوب سے ہرجانہ ادا کروائے۔

درخواست پرعدالت نے ممبئی پولیس کو مقدمہ درج کر کے کارروائی کا حکم دیا، جس پرگوگل کے سی ای او سمیت دیگرکے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغازکردیا گیا ہے۔

سنیل نے پریس کو بتایا، 'میں بالکل بھی پبلسٹی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا، صرف حقائق ریکارڈ پرلانے کی کوشش کررہا ہوں اور میں اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا، بطورایک فلمساز اور میرے پاس کچھ حقوق ہیں اورجب آپ ان کی بے رحمی سے خلاف ورزی کرتے ہیں، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میں ایک بے بس انسان ہوں '۔

گوگل کے سی ای اوسندر پچائی کو حال ہی میں بھارت کے تیسرے اعلیٰ ترین شہری اعزاز پدما بھوشن سے نوازا گیا تھا۔

Tabool ads will show in this div