کراچی:وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر ایم کیوایم کا دھرنا،گرفتار کارکنان رہا

کارکنان کی جانب سے پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی
Jan 26, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Mqm-Shelling-Khi-26-01.mp4"][/video]

کراچی میں سندھ بلدیاتی ترمیمی بل کیخلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے والے ایم کیو ایم کارکنان پر پولیس کی جانب سے شدید لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، پولیس نے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا تاہم رات تقریباً 11 بجے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر تمام زیر حراست افراد کو رہا کردیا گیا۔

پوليس اور کارکن آمنےسامنے،مظاہرين پرلاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد افراد کی حالت غیرہوگئی، پولیس کی جانب سے کارکنان کی پکڑ دھکڑ بھی شروع کردی گئی ہے، ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے تمام کارکنان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے تمام کارکنان کو رہا کردیا۔

ریلی کے شرکاء کو میٹروپول کے مقام پر پولیس نے آگے جانے سے روک دیا تاہم شرکاء باڑ توڑ کر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس وقت مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کارکنان کی جانب سے پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔

ایم کیو ایم کے کارکنوں پر  تشدد پر سربراہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ماؤں بہنوں پر تشدد کا جواب دیا جائے گا، پیپلزپارٹی  کے اقتدار کا کاؤنٹ ڈائون شروع ہوچکا  ہے۔

رہنما تحریک انصاف خرم شیر زمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی ریلی پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے، سندھ حکومت بات کرنے کیلئے تيار نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتين پر ڈنڈے برسانا افسوسناک ہے، اسمبلی ميں بھی بل پر بات نہيں کرنے دی گئی، يہ صرف کراچی کی نہيں پورے سندھ کے عوام کی لڑائی ہے۔

ویڈیو: رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین بھی گرفتار

رہنما ایم کیو ایم ریحان ہاشمی کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے ڈکٹیٹر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، نہتے پرامن لوگوں پر اچانک شیلنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی بدترین ڈکٹیٹر ہے جو سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے ریاستی اداروں کو استعمال کرتے ہیں۔

ریحان ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہم پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے تھے، نہ مذاکرات ہوئے نہ وارننگ دی گئی مگر پولیس نے شیلنگ کی اور ڈنڈے برسانے شروع کردیئے۔

انہوں نے کہا کہ بدترین شیلنگ سے شرکاء کو سانس لینے میں دشواری پیش آرہی ہے، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کون سا ریڈزون،پوراپاکستان اور پورا کراچی ہمارا ہے، ہمارا آدمی مار دیا،احتجاج تو کرنے دیں۔

رہنما پیپلزپارٹی اور صوبائی وزیر اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف والا قانون واپس نہیں آسکتا اگر ان کے پاس کوئی اچھی چیز ہے تو لے آئیں تاہم یہ طریقہ کار نہیں کہ آپ جان بوجھ کر ریڈزون میں آئیں۔

اویس قادر شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے دو وزیر جماعت اسلامی کے پاس گئے تھے، کوئی میں نہ مانوکی رٹ لگائے بیٹھا ہے تواس پرکیا کیا جاسکتا ہے، کونسا ایسا بل آگیا جس میں ان کی بات نہیں سنی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں دھرنوں سےماحول خراب ہورہا ہے، جوریلی کو لیڈ کررہے ہیں ان کا قصور ہے۔

کراچی میں دکانیں بند

کراچی کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے دکانیں بند کرانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، موٹر سائیکل سواروں نے برنس روڈ، نیو کراچی، گلشن اقبال اور کورنگی میں کاروباری مراکز بند کرادیئے تاہم پولیس اور رینجرز کی نفری نے کاروبار دوبارہ کھلوادیئے۔

حیدر آباد میں احتجاج

کراچی میں ایم کیو ایم کی احتجاجی ریلی پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کیخلاف حیدرآباد میں بھی احتجاج شروع ہوگیا، لبرٹی چوک، حیدر چوک اور لطیف آباد میں ٹائر جلا کر مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

Tabool ads will show in this div