بھارت کی معاونت کےبغیرلاہورکی فضائی آلودگی ختم نہیں ہوسکتی،رپورٹ

رپورٹ میں 2018-2020 تک کے ڈیٹا پر تحقیق کی گئی
Jan 26, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/LAHORE-AIR-POLLUTION-REPORT-1800-ISB-PKG-24-01.mp4"][/video]

ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کی مدد کے بغیر پاکستان اکیلے لاہور کی فضائی آلودگی ختم نہیں کرسکتا ہے۔

جی سی یونیورسٹی لاہور، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کی لاہور کی فضائی آلودگی پر تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

اس رپورٹ میں 2018-2020 تک کے ڈیٹا پر تحقیق کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی جانے سے کئے جانے والے اقدامات کے باوجود بھارت اور خطے کے دوسرے ممالک کومدد کرنا ہوگی۔

بھارت کی جانب سے آنے والی ہوا لاہور کی فضائی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے اورپاکستان کی جانب سے کوششوں کےباوجود بھارت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ فضائی آلودگی کے مسئلے کے لئے سارک ممالک کی کانفرنس بلا کر مدد لی جاسکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سال 2020 میں ایک بھی دن لاہور کی فضا صاف نہیں تھی۔

اسموگ سیزن کےدوران لاہور اور ملتان کے اسپتالوں میں سانس اور گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں میں غیرمعمولی اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔

Tabool ads will show in this div