لاہور میں صحافی کا قتل، 3 حملہ آور گرفتار

زير حراست افراد شوٹرز ہيں
[caption id="attachment_2508627" align="alignleft" width="800"] مقتول صحافی حسین شاہ کی تصویر[/caption]

لاہور میں پریس کلب کے سامنے دن دیہاڑے صحافی کو قتل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لاہور میں پريس کلب کے سامنے سینیر صحافی حسنين شاہ کے قتل میں ملوث 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ زير حراست افراد اجرتی قاتل ہیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب واقعہ کی ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو دے دی گئی ہے۔ قتل کا مقدمہ مقتول صحافی حسنین شاہ کی بیوہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پیر 24 جنوری کو مقتول صحافی حسنین شاہ رہائش گاہ سے دفتر کیلئے نکلے تو شملہ پہاڑی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ انہیں 2 موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں ماریں ، حسنین شاہ کے سینے اور پیٹ میں 8 سے زائد گولیوں کے نشان ملے۔ ان کو ماہر حملہ آوروں کی مدد سے قتل کرایا گیا۔

ابتدائی رپورٹ

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے ۔ پولیس نے حسنین شاہ کے موبائل کی سی ڈی آر بھی حاصل کرلی ہے۔ حسنین شاہ بطور کرائم رپورٹر نجی ٹی وی کیپیٹل سے منسلک تھے۔

شیخ رشید

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے لاہور پریس کلب کے کونسل ممبر اور سینیر کرائم رپورٹر حسنین شاہ کے قتل پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی حسنین شاہ کا قتل ایک بہیمانہ فعل ہے، صحافی حسنین شاہ کے قاتل جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے، صحافی حسنین شاہ کے لواحقین اورخاندان کے دیگر افراد کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

صحافتی تنظیموں کی مذمت

واقعے کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف جے یو) کی جانب سے بھی مذمت کی گئی۔ پی ایف یو جے کا اپنے مذمتی بیان میں کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہر میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کا قتل

لاہور اکنامک جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی جانیں محفوظ نہیں اور انتظامیہ انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کے مطابق پاکستان میں 2021 میں 3 صحافی مارے گئے۔اس میں کہا گیا کہ اسی سال دنیا بھر میں 45 صحافی مارے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی لاہور پریس کلب کے باہر نجی ٹی وی کے صحافی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سے رپورٹ طلب کی تھی۔

انہوں نے قتل میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے اور مقتو ل صحافی حسنین شاہ کے لواحقین کو ہرصورت انصاف فراہم کیا جائے۔

وزیر اعلی پنجاب نے مقتول کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے سوگوار خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی تھی۔

Tabool ads will show in this div