سعودی عرب: پاکستان کیساتھ قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ منظور

انسدادمنشیات میں تعاون کے معاہدے کیلئے مسودے کی بھی منظوری

سعودی عرب کی کابینہ نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کی منظوری دیدی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی کابینہ نے عالمی جہاز رانی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی پھر مذمت کی ہے جبکہ اجلاس میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔

سعودی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے، جرائم کے انسداد کے سلسلے میں تعاون کے معاہدے، نشہ آور اشیا کے غیرقانونی کاروبار کے انسداد میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے مسودوں کی منظوری دیدی۔

رپورٹ کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کو کرونا وباء کے بعد پہلی مرتبہ کابینہ کے باقاعدہ اجلاس میں شرکت کی اور اس کی صدارت بھی کی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں بحیرہ احمر میں عالمی جہاز رانی کی گزرگاہوں، امارات اور مملکت کی اہم تنصیبات، شہری اداروں اور شہریوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

کابینہ نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی خاطر حوثیوں کی جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے کیلئے حرکت میں آنا ہوگا۔

قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے اجلاس کے بعد ایس پی اے کو بتایا کہ کابینہ نے مختلف سطحوں پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا، یمنی بھائیوں کی مدد کیلئے شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کی انسانی خدمات کے حوالے سے رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مملکت نے براہ راست سرمایہ کاری کے سلسلے میں تعاون کیلئے کویت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی بھی منظوری دیدی، کابینہ نے مختلف ملکوں کے ساتھ منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے انسداد میں تعاون کے معاہدے کیلئے مسودے کی منظوری بھی دی۔

القصبی نے کہا کہ اجلاس میں عالمی تنظیم سیاحت اور مملکت کی وزارت سیاحت کے درمیان تعاون کے معاہدے کی منظوری بھی دی گئی۔

Tabool ads will show in this div