معذوری ہے مجبوری نہیں

معذور شخص نے بچوں کو تعلیم دینا شروع کی

Education

تحریر: رشیدہ بانو

کراچی کا علاقہ ابراہیم حیدری جو کہ ایک مچھیروں کی بستی کہلاتا ہے وہاں پڑھنے لکھنے کا رحجان زیادہ نہیں ہے۔ علاقے کے بچوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے اور تشدد پسند عناصر سے بچانے کے لیے کام کرنے والے باہمت شہباز بلوچ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی معذوری کو ہمت بناکر اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ اپنے علم اور قابلیت کو دوسروں میں منتقل کرنے کو زندگی کا مشن بنا لیا۔ پولیو کے شکار شہباز بلوچ نے اپنی محنت و لگن سے یہ ثابت کیا کہ معذوری مجبوری نہیں۔ وہ ابراہیم حیدری میں ’’چٹائی اسکول‘‘ کے ذریعے بچوں کو لکھنے پڑھنے کی تربیت دینے میں مصروف عمل ہیں۔

شہباز بلوچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر کالج قریب نہ ہونے اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ انہوں نے پڑھانے کے بارے میں خیال آنے کے بارے میں بتایا کہ میں اکثر محلے میں بچوں کو دن بھر کھیلتے ہوئے دیکھتا تھا اور بڑے لڑکوں کو نشے و بری عادات میں مشغول دیکھتا تو مجھے افسوس ہوتا، بس یہی سوچ کر محلے کے معززین سے رابطہ کیا کہ میں ان بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا سیکھانا چاہتا ہوں تاکہ آنے والی نسل کو انتہا پسندوں اور منشیات جیسی بری لت سے بچایا جاسکے، جس پر کچھ لوگوں نے حوصلہ افزائی کی اور کچھ نے تنقید کی مگر میں مایوس نہیں ہوا اور محلے والوں کی مدد سے بچو ں کو پڑھانا شروع کیا جب میں نے پڑھانا شروع کیا تو صرف تین چار بچے ہی آتے تھے۔ پھر میں نے ان بچوں سے رابطہ کیا جو دکانوں پر کام کیا کرتے تھے، ان کو کہا کہ شام میں پڑھنے آجایا کرو اسطرح وہ بچے بھی پڑھنے آنے لگے اور اسطرح میرے پاس بچوں کی تعداد بڑھنے لگی۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر وہ لوگ جن کے پاس بچے کام کرتے تھے وہ مجھے بولتے تھے کہ بچوں کو پڑھا کر کیا کرو گے، انہوں نے کچھ نہیں کرنا ہے، پڑھنے سے کچھ نہیں ہوگا تم ہمارا نقصان کر رہے ہو۔ دبے الفاظ میں انہوں نے مجھے دھمکیاں بھی دیں کہ تم ہمارے بچوں کو کام سے روک رہے ہوں لیکن میں ان کو کہتا تھا کہ تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا آئے گا تو اس میں آپ کا فائدہ ہے، آپ کو حساب کتاب میں مدد کرے گا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ منشیات فروشوں نے مجھے گھیر لیا اور کہا کہ تم ہمارے بارے میں لوگوں سے غلط غلط باتیں کیوں کر رہے ہوں؟ آپ اپنا کام کرو اور ہمیں اپنا کام کرنے دو مگر میں نے ان کی بات نہیں مانی اور جو لوگ مجھے نظر آتے کہ یہ کسی بری لت میں پڑنے والے ہیں میں ان کو ضرور روکتا اور سمجھاتا کہ نشے میں نہ پڑو اور ان کی صحبت چھوڑو اور اسکول میں آؤ، کچھ گھنٹے گزارو۔ پھر میں نے یہ کیا کہ ’عزم نوجوان‘ نامی این جی او کے ساتھ ملکر اپنے اسکول میں سرگرمیاں شروع کیں اور جو لڑکے لڑکیاں اسکوں نہیں جاتے تھے ہم ان کو بلا کر سمجھاتے تھے اور ان کی ذہن سازی کرتے تھے جس سے ہمیں بہت اچھا نتیجہ ملا۔  ابراہیم حیدری کے بچے اب دوسری صحتمندانہ اور پرامن سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے تھے۔ عزم نوجوان کے رضا کار زیادہ وقت دینے لگے تھے تاکہ ابراہیم حیدری کے نوجوان بھی آگے آئیں اور سماجی عملی منصوبوں کا حصہ بنیں۔

کچھ عرصے بعد یہ ہوا کہ کسی نے ہمارے اسکول کو آگ لگا دی، ساری چٹائیاں اور بانس جل گئے، جو بچے میرے پاس پڑھنے آتے تھے وہ بھی ڈر گئے اور کئی دن تک مجھے تدریسی عمل روکنا پڑا، اس وقت بھی عزم نوجوان نے ہمارا ساتھ دیا۔ ان لوگوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور دوبارہ سے اسکول میں چٹائیاں اور کرسیاں بھی لا کر دیں اور اس جگہ کو دوبارہ بیٹھنے کے قابل بنایا اس وقت چٹائی اسکول میں 53بچے زیر تعلیم ہیں جنہیں شہباز کے علاوہ دو اور ٹیچرز تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔

شہباز جیسے نوجوان ہمارا اثاثہ ہے جنہیں دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ واقعی ابھی اس دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔

Tabool ads will show in this div