ٹرانسپرنسی انٹرنيشنل کی سالانہ فہرست، پاکستان کی مزيد تنزلی

پاکستان 180 ممالک کی فہرست ميں 124 سے 140 ویں نمبر پر چلا گيا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/NF-CPI-2021-Pakistan-Corruption-PKG-25-01-Shahbaz.mp4"][/video]

 

ٹرانسپرنسی انٹرنيشنل کی سالانہ فہرست ميں پاکستان کی مزيد تنزلی ہوگئی ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنيشنل کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان 180 ممالک کی فہرست ميں 124 سے 140 ویں نمبر پر چلا گيا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان 100 ميں سے صرف 28 پوائنٹ حاصل کرسکا ہے۔ پچھلےسال انڈیکس میں پاکستان کااسکور31تھا۔

اس سے قبل پاکستان کا اس فہرست میں 124 واں نمبر تھا جب کہ سال 2019 ميں پاکستان 120 ویں نمبر پرتھا۔ 

کرپشن پرسیپشن انڈیکس کا اسکور کم ہونا کرپشن میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس فہرست میں 100 اسکور والا ملک کرپشن سے پاک اور0 اسکور والا ملک انتہائی کرپٹ ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں کرپشن کی سطح میں عمومی طورپر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ سی پی آئی  مختلف اداروں کے جمع کردہ ڈيٹا کی بنياد پرکرپشن کا تاثرمرتب کرتا ہے۔

کرپشن انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی پرپاکستان مسلم لیگ (ن) کےصدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نےمسلسل دوسری بارگواہی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت کرپٹ اور چور ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی ادارے کی رپورٹ فردِ جرم ہے،کرپٹ حکمران استعفیٰ دیں کیوں کہ ملک ان کی لوٹ مار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

‎پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز شریف کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ تحریک انصاف کی کرپشن اور لوٹ مار کی بدولت پاکستان دنیا بھر میں رسوا ہوگیا ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ اس حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔

Tabool ads will show in this div