بھارت کا نایاب سانبھڑ ہرن پاکستان کی آغوش میں

ہرن کو لاہور کے سفاری گھر میں چھوڑ دیا گیا ہے

Sambar (Rusa unicolor) male.jpg

[video width="640" height="352" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/WhatsApp-Video-2022-01-25-at-11.29.52-AM.mp4"][/video]

سرحدی علاقے قصور میں نایاب نسل کا بھارتی سانبھڑ ہرن پاکستانی علاقے میں آگیا، جسے مقامی افراد نے پکڑ کر وائلڈ لائف حکام کے حوالے کردیا۔

ہرن نے قصور میں منڈی عثمان والا کے سرحدی علاقے کھلچی جاگیر سے 10 فروری کو سرحد پار کی، جس کی اطلاع فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف کو دی گئی۔ واضح رہے کہ دو ماہ کے اندر تیسرا ہرن پاکستان کی حدود میں آیا ہے۔ ایک ہرن کو لوگوں نے مار دیا تھا، جب کہ ایک وائلڈ لائف حکام نے تحویل میں لے لیا تھا۔

اس سے قبل اتوار 23 جنوری کو رات گئے پانچ گرائیں گاؤں کے مکین اس وقت حیران رہ گئے تھے ، جب انہوں نے ایک اچھوتے ہرن کو اپنے گاؤں میں موجود پایا۔

یہ ایک نایاب نسل کا ہرن تھا، جو بھارت سے سرحدی علاقے نارروال کے گاؤں میں داخل ہوگیا تھا، بھارت سے آنے والے اس نایاب نسل کے قیمتی ہرن کو دیکھ کر دیہاتیوں نے اسے پکڑ لیا اور بعد ازاں کمرے میں بند کردیا۔ واقعہ کی اطلاع ندوکے پولیس کو دی گئی تو پولیس نے محکمہ وائلڈ لائف حکام کو آگاہ کیا۔

محکمہ وائلڈ لائف حکام نے قیمتی ہرن کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے کر لاہور کے سفاری گھر منتقل کردیا۔

سما ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ وائلد لائف نارووال اور سیالکوٹ زاہد پرویز نے ہمیں بتایا کہ یہ اتوار 23 جنوری کو رات گئے واقعہ پیش آیا ہے، جس میں پاک بھارت سرحد کے قریب واقعہ گاؤں پانچ گرائیں میں بھارتی حدود سے ہرن پاکستانی علاقے میں داخل ہوا، جس کی اطلاع مقامی پولیس تھانا ندوکے کو دی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے ہمیں محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع دی، ہمارے حکام موقع پر پہنچ گئے اور نایاب ہرن کو تحویل میں لیکر پیر کے روز دن گیارہ بجے اسے لاہور کے سفاری چڑیا گھر میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ سرحد پار سے آنے والے ان نایاب جانوروں کو واپس کردیا جاتا ہے یا انہیں ملکی تحویل میں لے لیا جاتا ہے ؟ پر انہوں نے ہمیں بتایا کہ محکمہ وائلد لائف کے 1974 کے قانون کے تحت یہ جانور یا پرندے محکمہ وائلڈ لائف کی ملکیت ہو جاتے ہیں اور انہیں واپس نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں محفوظ طریقوں سے ان کی مناسب جگہوں پر منتقل کردیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی اطلاع پر جب محکمہ وائلڈ لائف کسی جانور کو تحویل میں لیتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہوتا ہے کہ جانور کو محفوظ طریقے سے چڑیا گھر منتقل کردیا جائے۔ ہمیں ملکی سرحد کے اندر کسی بھی نایاب یا قمیتی جانور جیسے پینگولین، ہرن، چیتا وغیرہ ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انہیں بحفاظت متعلقہ مقامات پر منتقل کردیتے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ وائلڈ لائف نایاب اور قیمتی جانوروں کی اسمگلنگ یا انہیں چرانے کے واقعات کے خلاف بھی کارروائی کرتا ہے اور اس کی روک تھام کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

زاہد پرویز کے مطابق قیمتی اور نایاب جانوروں کی اسمگلنگ یا انہیں مارے میں جو ملزمان ملوث ہوتے ہیں، ان کے خلاف جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور سزائیں دی جاتی ہیں۔

بھارتی ہرن کی نسل

بھارت سے آنے والے نایاب نسل کے ہرن سے متعلق انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس ہرن کا تعلق پاڑہ ہرن نسل سے ہے، اس نسل کے ہرن پاکستان اور بھارت دونوں جگہ ان کی بہتات ہے، تاہم بدقسمتی سے یہاں لوگ اس کا غیر قانونی شکار کرلیتے ہیں، تاہم بھارت میں کسی بھی بھی طرح کے ہرن کے شکار کی کسی طور اجازت نہیں ہے۔

تعداد

تعداد سے متعلق انہوں نے ہمیں بتایا کہ پاک بھارت سرحد پر نارروال میں اس نسل کے ہرنوں کے ریورڑ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

ہرن کی کون کون سی قسم پاکستان میں ہیں؟

نیل گائے بھی اسی کی قسم ہے، جب کہ سانبھر ہرن جو سائز میں بڑا ہوتا ہے وہ نارروال اور سیالکوٹ میں کافی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک اور ہرن کی نسل چنکارہ ہرن سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ چولستان میں بہت دیکھا جاتا ہے۔

ہرن کی خوراک

خورا سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ چوں کہ بکری کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، اس لئے یہ گھاس، گندم، باجرہ، وغیرہ بکری جیسی خوراک کھاتا ہے۔

افزائش نسل

افزائش نسل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ایک مادہ ہرن سال میں دو دفعہ بچے دیتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ کے شہر خیرپور سے 29 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مربع میل یا تقریباً 700 ایکڑ رقبے پر مشتمل حصے میں بھی کئی نایاب اور قیمتی جانور قدرتی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں، جس میں چنکارہ، پاڑہ اور کالے ہرن بھی شامل ہیں۔ ہرن کی ان اقسام کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔

https://ichef.bbci.co.uk/news/800/cpsprodpb/140BC/production/_120680128_mehrano5.jpg.webp

یہ علاقہ پاکستان میں پاڑہ ہرن (ہاگ ہرن) کا آخری گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ہرن کا سندھ میں کھال اور گوشت کے لیے بے رخمی سے شکار کیا جاتا ہے مگر اب اسے قدرتی ماحول کے میسر آنے کے بعد اس کی نسل بلا خوف و خطر پروان چڑھ رہی ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ڈپٹی کنزرویٹر عدنان حامد خان کے مطابق بے دریغ شکار سے کالے ہرن کی آبادی کم ہوتی چلی گئی اور ایک وقت یہ بھی آیا کہ یہ ناپیدی کے قریب پہنچ گیا۔

https://ichef.bbci.co.uk/news/800/cpsprodpb/6980/production/_120680072_mehrano2.jpg.webp

ایک رپورٹ کے مطابق 1935 میں امریکا کی ریاست ٹیکساس کو خیرسگالی کے طور پر کچھ کالے ہرن بطور تحفہ بھیجے گئے تھے جہاں یہ قدرتی ماحول میں پھلتے پھولتے رہے اور ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی جب کہ پاکستان میں اس خوبصورت جانور کے اندھا دھند شکار سے اس کی نسل کو بقا کا خطرہ لاحق ہوا اور یہ کہیں اکا دکا اور خال خال ہی نظر آتے تھے۔

بعد ازاں حکومت پاکستان کی درخواست پر ٹیکساس کی حکومت نے کالے ہرن کے کچھ جوڑے پاکستان واپس بھیجے تاکہ ان کی از سرِ نو افزائش ہوسکے۔ 1985میں 13 کالے ہرن پاکستان آئے جنھیں کھیرتھر نیشنل پارک کے کھار سینٹر میں چھوڑا گیا جب کہ 1989 میں مزید 12 ہرن میر مراد علی تالپور کو بطور تحفہ دیے گئے جنھیں خیر پور کے علاقے میں بنائے گئے قدرتی ماحول میں انہیں چھوڑا گیا اور آج ان ہرنوں کی تعداد بڑھ کر 1500 تک پہنچ چکی ہے۔

سما سے گفتگو میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ وائلڈ لائف  بہاولپور محمد ابرار نے بتایا کہ بہاولپور کے لال سہانڑہ نیشنل پارک میں 52 چنکارہ، 486 کالے ہرن اور 18 اسپوٹٹ ( چیتل ) ہرن موجود ہیں۔

کالے ہرن

کالے ہرن کا قدرتی مسکن پاکستان، انڈیا اور نیپال ہے۔ یہ وہی جانور ہے جس کے شکار پر 2018 میں انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور کی مقامی عدالت نے اداکار سلمان خان کو پانچ سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

لال سہانڑہ

کالے ہرن کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے کہ کالا ہرن اگر کسی شکاری کو دوڑ میں پیچھے نہیں چھوڑ سکتا تو وہ صرف چیتا ہے۔ برصغیر میں مغل دور میں کالے ہرن کے شکار کے لیے چیتے پالے جاتے تھے۔ ایک کھیل جسے ’کورسنگ‘ کہا جاتا ہے اس میں چیتے کو کالے ہرن پر چھوڑ جاتا تھا۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق برصغیر کے اس خطے میں سنہ 1947 میں ان کی تعداد 80 ہزار تھی جو کم ہو کر سنہ 1964 میں آٹھ ہزار پر آگئی۔ تاہم بحالی کی کوششوں کے بعد اب دوبارہ ان کی تعداد 25000 کے قریب ہو چکی ہے۔

لال سہانڑہ

بہاولپور کے لال سہانڑہ نیشنل پارک کے 70 ایکڑ رقبے پر کالے ہرن کا انکلوژر بنایا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 500 کے قریب کالے ہرن موجود ہیں، ہر شام سونے سے پہلے کالا ہرن چنے کا کھانا کھاتا ہے۔

قدیم تہذیب سے تعلق

ایک رپورٹ کے مطابق بشنوئی فرقہ انھیں تقریباً پوجتا ہے۔ آندھرا پردیش نے انھیں ’ریاستی جانور‘ کا درجہ دیا ہے۔

سنسکرت میں ان ہرنوں کا ذکر کرشن ہرن کی شکل ملتا ہے۔ ہندوؤں کے قدیم گرنتھوں کے مطابق بلیک بک بھگوان کرشن کا رتھ کھینچتا نظر آتا ہے۔ راجستھان میں کرنی ماتا کو کالے ہرن کا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔

انڈین تہذیب بھی کالے ہرن کا خاص مقام ہے۔ قیاس ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب میں یہ خوراک کا ذریعہ رہا ہے اور دھولا ویزا اور مہر گڑھ جیسی جگہوں پر بھی اس کی ہڈیوں کی باقیات ملی ہیں۔16 وہں سے 19 صدی کے درمیان قائم رہنے والی مغل سلطنت میں بلیک بک کی کئی چھوٹی پیٹنگز (منی ایچرز) انڈیا اور نیپال میں بلیک بک کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا اور نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جاتا ہے۔

WWF

ہرن، بھارت، پاکستان