کالمز / بلاگ

تحریک انصاف کواصل خطرہ ’’اندر سے ہے‘‘!۔

کچھ کام کرلیں، ورنہ اگلی باری بھول جائے

تحریک انصاف حکومت اقتدار کے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے مگر لگ یوں رہا ہے کہ ابھی چوتھا مہینہ ہی چل رہا ہے۔ بات گورننس کی ہو،معیشت کی ہو یا پھر انتظامی معاملات کی، ہر محاذ پر وزیراعظم عمران خان ناکام ہی نظر آرہے ہیں، یا پھر یوں کہہ لیں کہ جو دعوے اور وعدے عمران خان نے وزارت عظمیٰ میں آنے سے پہلے کیے تھے، ان میں سے وہ بمشکل ہی کسی ایک کو بھی آج چار سال بعد بھی  پوراکرنے میں کامیاب نظر نہیں آتے۔

اس ناکامی کی ایک عکاسی تو مہنگائی اور اس مہنگائی سے تنگ آئے عوامی رد عمل کی صورت میں نظر آرہی ہے، لیکن اصل امتحان کا سامنا  اب پی ٹی آئی حکومت کو خّود اپنے اندر سے ہے۔ باہر کی آوازوں  پر تو شاید کان بند کرکے دل کو تسلی دی جاسکتی ہے کہ سب کچھ اچھا ہے مگر جب یہ آوازیں اور چیخ پکار گھر کے اندر سے ہی شروع ہوجائیں تو پھر کان بند کرنے سے بھی بات در گزر نہیں کی جاسکتی۔

More Than 86% Of Pakistanis Will Support PTI In 2023 Elections: Survey

پاکستان میں عموما حکومت کا آخری یعنی چوتھا سال، الیکشن کی تیاریوں کا سال ہوتا ہے، اس سال میں حکومت اپنی کامیاب پالیسیوں اور عوامی فلاح کیلئے کیے گئے کاموں کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے، تاکہ عوام کو اگلی باری کیلئے بھی ووٹ کیلئے راضی کیا جاسکے۔ ایسے وقت میں اپوزیشن جماعتیں، عوام کو حکومت وقت کی ناکامیوں، خراب پالیسیوں اور دیگر مسائل کی طرف متوجہ کرکے اپن لئے اگلے الیکشن میں ووٹ مانگتی نظر آتی ہیں، مگر تحریک انصاف حکومت کے ساتھ معاملہ ذرا مختلف ہے، یا یوں کہہ لیں کہ تبدیلین سرکار کے معاملات ماضی کے مقابلے میں  تبدیل ہیں۔

موجودہ حکومت چوتھے سال بھی اپنی کوئی کارکردگی بتانے کی بجائے،،پچھلی حکومتوں کی ناکامیوں کا رونا رو رہی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے ماضی کی حکومتوں کا سہارا لے رہی ہے۔اور اپوزیشن کو بھی اس مرتبہ  عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑ رہی۔ کیونکہ پی ٹی آئی حکومت خود اپنے لئے ہی کافی ہے۔

PM hails Khattak as party issues notice to Noor Alam - Minute Mirror

پارٹی کے اندر سے لوگ احتجاج کررہے ہیں،،بات نور عالم کی ہو یا، پارٹی کے دیرینہ رہنما اور وزیر دفاع پرویز خٹک کی،اب تو یہ بھی کھلم کھلا پارٹی پالیسیوں پر بات کررہے ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہوا ،وہ بھی نوشتہ دیوار تو تھا ہی،لیکن اس ہار کے بعد پارٹی سطح پر تنظیمی تبدیلیوں کے بعد بھی پارٹی کے اندر سے جو اعتراضات اٹھ رہے ہیں ،وہ دوسرے صوبوں میں آنے والے بلدیاتی انتخابات ہی نہیں بلکہ ڈیڑھ سال بعد ہونیوالے عام انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کیلئے بڑے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں۔عوامی رد عمل توبعد کی بات ہے،اگر یہی صورتحال رہی تو تحریک انصاف کے ساتھ چلنے والےکئی عوامی نمائندے ،،ایسا نہ ہوا کہ الیکشن سے پہلے ہی پارٹی سے اپنا دامن چھڑا لیں اور یاد رہے کہ پاکستانی سیاست کا ماضی ایسے کئی "اچانک جاگنے والےضمیروں"سے بھر پڑا ہے۔

ساتھ ساتھ گزشتہ چار سال ساتھ چلنے والے اتحادی بھی اببار بار ناراض ہورہے ہیں، جن کو کبھی پی ایم ہاؤس بلا کر منانا پڑتا ہے تو کبھی خلاء سے آنے والی کالز ان کو رام کرنے کا سبب بنتی ہیں، مگر یہ سارا ماحول کسی بھی وقت  بدلتی ہوائوں کے ساتھ  تبدیل ہوسکتا ہے اوراتحادی بھی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔

اب تحریک انصاف حکومت کیلئے کچھ کرو یا پھر مرو کا وقت ہے۔ اگلا ایک سال کم از کم مہنگائی پر بھی قابو پالیا تو شاید عوام اور ساتھ چلنے والے بہت کچھ بھول جائیں، بصورت دیگر تحریک انصاف اگلی باری بھول جائے۔

Tabool ads will show in this div