لانگ مارچ کی تیاریاں، پی ڈی ایم کا اہم اجلاس آج ہوگا

انتخابات سے متعلق بھی مشاورت کی جائیگی
[caption id="attachment_2507057" align="alignleft" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

مارچ کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کی تحریک اور سیاسی حکمت عملی پر غور ہوگا۔

پی ڈی ایم کے سیکریٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کا 4 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کی جائے گی۔ اس موقع پر پی ڈی ایم کے 23 مارچ کے لانگ مارچ کی تیاریوں اور فروری کے پی پی کے لانگ مارچ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پی ڈی ایم اسکروٹنی کمیٹی کی پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس پر ردعمل دے گی جب کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کی تحریک اور سیاسی حکمت عملی پر غور ہوگا۔

قبل ازیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور ان ہاؤس تبدیلی کیلئے پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پیپلز پارٹی میں بیک ڈور رابطے تیز ہوگئے ہیں۔ ان ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کے بعد کے مراحل طے کرنے کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے۔ وزیراعظم کون ہوگا؟، کتنے عرصہ میں اسمبلیاں توڑ کر عام انتخابات کا اعلان کرنے جیسے معاملات پر دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے۔

ابتدائی رابطوں میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی میں انتخابات کی مدت طے کرنے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے 3 ماہ کے اندر انتخابات کے اعلان کی گارنٹی مانگی ہے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 6 ماہ میں انتخابات کرانے پر رضامند ہے۔

پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کیے بغیر عام انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں۔ انتخابی اصلاحات کے لیے نئی حکومت کو وقت درکار ہوگا۔ پی ڈی ایم نے اپنا، پیپلز پارٹی نے اپنا فارمولا دے دیا ہے اور انتخابات کی تاریخ پرمزید بات چیت جاری ہے۔

واضح رہے کہ حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موؤمنٹ نے گزشتہ سال 6 دسمبر کو 23مارچ کو مہنگائی کے خلاف مارچ کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں سینیٹ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 23 مارچ کو دہشت گردی اور کورونا کا خطرہ ہے، 27 مارچ کو اسلام آباد آجائیں، 23مارچ کو آدھا اسلام آباد کسی اور کے کنٹرول میں ہو گا، جیمرز لگے ہوں گے۔

Tabool ads will show in this div