دوسالہ بچےنے ہزاروں ڈالرزکی آن لائن شاپنگ کرڈالی

آئندہ فون لاک کرکے رکھیں گے، والدین

تصویر: این بی سی نیوز

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے، یہ مصرع امریکی ریاست نیوجرسی میں دو سال کے ایک بچے نے سچ ثابت کردیا۔

والدین کو چاہیے کہ موبائل فون استعمال کرنے کے کے بعد ہسٹری ذرا یاد سے ڈیلیٹ کردیا کریں کیونکہ پھرانہیں بھی ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتاہے جو مدھو کمار کوکرنا پڑا۔

این بی سی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نیوجرسی کی رہائشی مدھوکمارنامی خاتون نے گھرکے سازوسامان کے لیے فرنیچرکی ایک ویب سائٹ چیک کی تاہم انہوں نے کسی بھی چیزکا آرڈر نہیں دیا، خاتون اور ان کے شوہر کو اس وقت شدید حیرت کا جھٹکا لگا جب گھرکی دہلیزپر2 ہزار ڈالرز مالیت کا سامان پہنچادیا گیا۔

مدھوکمار کو گمان گزراکہ یہ سامان غالباًان کے شوہریا بڑے 2 بچوں میں سے کسی نے آرڈرکیاہو لیکن ان کی لاعلمی پرمدعا کھلا کہ یہ کارنامہ گھرکے سب سے چھوٹے رُکن ایانش نے سرانجام دیا ہے جس کی عمرصرف 2 سال ہے۔

والدین پُریقین ہیں کہ اکثروبیشتر ماں کے موبائل کے ساتھ کھیلنے اورکارٹونز دیکھنے والے ایانش نے اسی دوران فرنیچرکی ویب سائٹ پرجاکریہ آن لائن سامان آرڈر کرڈالا۔

بچے کے والد پرمود کمار نے بتایا کہ ایانش نے ایڈوانس ادائیگی بھی کردی تھی، یہ سامان آن لائن آرڈردیے جانے کے بعد 2 ہفتوں تک گھرپرپہنچایاجاتا رہا جس میں اسٹینڈ، کرسیاں، آرائشی گلدان سمیت دیگراشیاء شامل ہیں۔

شیئرکی جانے والی ویڈیومیں بچے کے والدین نے محظوظ ہوتے ہوئے بتایا کہ ایانش ابھی بہت چھوٹا اورکیوٹ ہے، اب وہ ایسا کرچکا ہے تو ہم محظوظ ہورہے ہیں تاہم مستقبل میں ایسی کسی صورتحال سے بچنے کے لیے والدین نے یہ تہیہ بھی کیا کہ آئندہ وہ اپنے فون کو لاک کرکے رکھاکریں گے۔

مدھواورپرمود کا کہنا ہے کہ اب وہ فون پر پاس کوڈز سیٹ کریں گے یا چہرے کی شناخت کا آپشن استعمال کریں گے۔

Tabool ads will show in this div