ہونڈا،کِیا کمپنی نےگاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

قیمتیں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کے باعث بڑھی
Jan 24, 2022

وفاقی حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) 2.5 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد تک کیے جانے کے بعد کِیا لکی موٹرز اور ہونڈا نے اپنی متعدد گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کےباوجود ہونڈا اور کِیا اپنےکچھ ویریئنٹس کی قیمتوں کو برقرار رکھا ہے۔

ہونڈا کےایک ڈیلرکا کہنا تھاکہ ہونڈا گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 21 جنوری سے ہوچکا ہے۔ نئی قیمتوں کا طلاق 21 جنوری سے پہلے کیے گئے تمام جزوی اور مکمل ادائیگی کے آرڈرز پر بھی لاگو ہوگا جبکہ کِیا کمپنی نےنئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری سے کردیا ہے۔

ہونڈا اور کِیا کمپنی نے قیمتوں میں کم ازکم 77 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ 42 ہزار روپے کا اضافہ کیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرپرسن محمد صابر شیخ  نے کہا کہ کمپنیوں نےمنی بجٹ میں حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں اضافے کے باعث گاڑیوں کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔

آٹوانڈسٹری کے ذرائع کے مطابق کِیا نے سورینٹو ویریئنٹس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے کیونکہ یہ کِیا لائن اپ کی سب سے کم فروخت ہونے والی گاڑی ہے، اور کمپنی اب دونوں ویریئنٹس کو 74 لاکھ 90 ہزار روپے کی ایک ہی قیمت پرفروخت  کر رہی ہے۔

تاہم کمپنی کے مطابق  وہ سورینٹو  پر محدود مدت کی پیشکش کر رہے ہیں، کیونکہ کمپنی 2017  سے لے کر اب تک کِیا سورینٹو کی 50 ہزار  گاڑیوں کی بکنگ کا سنگ میل عبور کرچکی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ قیمتوں میں کمی سے فروخت میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ جو لوگ کِیا سورینٹو خریدنے  کی استطاعت رکھتے ہیں وہ ٹویوٹا گاڑیوں کی مقبولیت کی وجہ سے اُسی قیمت پر فورچیونر خریدنے کو ترجیح دیں گے۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سے جاری  کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہونڈا نے ہونڈا سوک اور سٹی کے 4 ہزار 404 یونٹس فروخت کیے، جو ماہانہ بنیاد پر 59 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ہونڈا بی آر وی  کی فروخت بھی دسمبر میں 27 فیصد سے بڑھ کر 303 یونٹس ہوگئی۔

صابر شیخ نے کہا کہ اعلیٰ طبقے کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ مہنگی گاڑیاں خرید سکتے ہیں۔ تاہم ٹیکسوں میں تبدیلی کی وجہ سے متوسط ​​طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہونڈا اور کِیا کے ممکنہ خریدار اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھی فروخت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔