سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج نےحلف اٹھالیا

جوڈیشل کمیشن نے 3 ہفتے قبل منظوری دی تھی
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Ptv-Ayesha-Malik-Taking-Oath-As-Judge-Sc-24-01.mp4"][/video]

جسٹس عائشہ ملک نے بطور پہلی خاتون سپریم کورٹ آف پاکستان کی جج کا حلف اٹھا لیا ہے۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون سپریم کورٹ آف پاکستان کی جج بن گئی ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا۔

تین ہفتے قبل جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ پہلی خاتون جج نامزدگی کی منظوری دی تھی جہاں 4 کے مقابلے میں 5 ججز نے ان کی تعیناتی کی سفارش کی تھی۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ تعیناتی کی حمایت کرنے والوں میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطاء بندیال، اٹارنی جنرل خالد جاوید، جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی اور وزیر قانون فروغ نسیم شامل تھے جبکہ مخالفت میں جسٹس سردارطارق، جسٹس مقبول باقر، جسٹس قاضی فائز عیسی اور پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین نے ووٹ دیے۔

ستمبر میں چیف جسٹس گلزار احمد کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا، ان کی حمایت اور مخالفت میں 4، 4 ووٹ آئے تھے۔

چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطاء بندیال، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس عائشہ ملک کی حمایت جبکہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق، جسٹس (ر) دوست محمد خان اور پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین نے مخالفت کی تھی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرون ملک ہونے کے باعث رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

تعلیمی قابلیت اور بطور قانون دان تجربہ

لاہور ہائیکورٹ کے ریکارڈ کے مطابق 1966ء میں پیدا ہونیوالی جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنی بنیادی تعلیم پیرس اور نیویارک سے حاصل کی جبکہ کراچی گرامر اسکول، کراچی سے سینئر کیمبرج کیا۔

انہوں نے لندن سے اے لیول، گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کراچی سے بی کام اور لاہور کے پاکستان کالج آف لاء سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔

عائشہ اے ملک نے امریکا سے ایل ایل ایم کیا، جہاں انہیں شاندار قابلیت کیلئے لندن ایچ گیمن فیلو 99-1998ء کا نام دیا گیا، 2001-1997ء کے دوران انہوں نے معروف قانون دان اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان فخرالدین جی ابراہیم کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وکیل بھی کام کیا۔

جسٹس عائشہ ملک کون ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھیں، وہ 27 مارچ 2012ء سے بطور جج خدمات انجام دے رہی ہیں۔

وہ 3 بچوں کی ماں ہیں۔ انھوں نےغربت کے خاتمے،مائیکرو فنانس اور ہنر کی تربیت کے پروگراموں پر کام کرنے والی این جی اوز کیلئے پرو بونو کیس بھی لڑے ہیں۔

جسٹس عائشہ اے ملک نے پنجاب میں عصمت دری سے متاثرہ افراد کے ٹو فنگر اور ہائمن ٹیسٹ پر پابندی کا تاریخی فیصلہ تحریر کیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی میں خواتین کی تعیناتی کے کیس میں جسٹس عائشہ اے ملک نے خواتین کو بھرتی کرکے دفتری امور پر تعینات کرنے کا حکم سنایا اور قرار دیا کہ صنفی امتیاز پر خواتین کو نوکریوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

دیگر اہم مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماء کی درخواست پر شوگر ملز جنوبی پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں منتقل کرنے سے روکنے کا حکم، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی نیب کیس میں ضمانت کی حمایت شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی کے بعد وہ 10 سال تک اس عہدے پر کام کریں گی، وہ جنوری 2030ء میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی چیف جسٹس بھی بن سکتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں گی۔

Tabool ads will show in this div