امریکا: بین الاقوامی طلبا کےلیے داخلہ پالیسی تبدیل

طلباء کو 36 ماہ تک تعلیم مکمل کرنے کی اجازت ہوگی

امریکی حکومت نے بین الاقوامی طلباء کو راغب کرنے کے لیے امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

امریکی معیشت کو مزید مسابقتی بنانے کی وسیع تر کوششوں کے سلسلے میں حکام نے جمعے کو سائنس ، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بین الاقوامی طلبا کو راغب کرنے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا اعلان کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق محکمہ خارجہ ان شعبوں میں جنھیں "ایس ٹی ای ایم "،اسٹیم کے نام سے جانا جاتا ہے، اہل طلبا کو 36 ماہ تک کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے کی اجازت دے گا جبکہ ان طلبا کو امریکی کاروباری اداروں سے منسلک کرنے کے لیے مزید نئےاقدامات بھی کئے جائیں گے۔

ہوم لینڈ سیکورٹی کا محکمہ غیر ملکی طلبا کی امریکا میں کلاوڈ کمپیوٹنگ ، ڈیٹا ویژیولائزیشن اور ڈیٹا سائنس سمیت تعلیم کے 22نئے شعبوں کو اپنی فہرست میں شامل کرے گا۔

پروگرام کے تحت امریکی یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی گرویجویٹس کو مقامی آجروں کے ساتھ تربیت میں مزید تین سال تک گزارنے کی اجازت دیتا ہے،اس پروگرام کے تحت مالی سال 2020میں 58 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔

پروگرام اس کوبات یقینی بنانے کےلیے ترتیب دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ٹیلنٹ کے لیے امریکا کشش کا باعث بن جائے۔ یہ سائنسدانوں اور محققین کو اپنی جانب متوجہ کرے گا، جن کی کامیابیاں معیشت کوترقی دینے کے قابل بنائیں گی۔سرکاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی طلبا بڑھتی ہوئی تعلیمی تحقیق کا محور ہیں۔

سرکاری قومی سائنس بورڈ نے اس ہفتے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق معاشیات، کمپیوٹر سائنس، انجنیرنگ اور میتھمٹکس میں امریکی ڈاکٹریٹ کی نصف ڈگریاں عارضی ویزے پر آنے والے بین الاقوامی طلبا اور سائنسدانوں کے پاس ہیں۔

Tabool ads will show in this div