کراچی میں گرین لائن بس پر پتھر پھینکنے کے واقعات

روٹ کے اطراف پولیس پیٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت
[caption id="attachment_2493567" align="alignnone" width="800"]Green Line Operational KHI 0800 PKG 09-01 فائل فوٹو[/caption]

کراچی میں گرين لائن بس پر پتھر پھينکنے کے واقعات پر بس کی سيکيورٹی کمپنی نے پوليس کو درخواست دے دی۔ پتھر لگنے سے گرين لائن بس کے شيشوں کو نقصان پہنچا ہے۔

گرین لائن بس سروس پر پتھراؤ کے معاملے پر پولیس کا مؤقف بھی سامنے آگیا۔  پولیس کا کہنا ہے کہ روٹ کے اطراف کچی آبادی میں رہائش پذیر 2 سے تین چھوٹے بچوں نے شرارتاً گرین لائن بس پر پتھراؤ کیا۔

کراچی پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی سینٹرل نے واقعے کے مقام پر پہنچ کر فوری طور پر متعلقہ ایس ایچ او کو پتھراؤ کرنیوالے بچوں کی تلاش کی ہدایت  کردی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کیجانب سے بی آر ٹی کے روٹ پر لگنے والے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو بس کے روٹ پر پولیس پیٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت کی ہے جبکہ اطراف کے علاقوں میں اس طرح کی سرگرمیوں سے آئندہ باز رہنے کے نوٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں۔

گرین لائن بس سروس پر پتھراؤ کی خبروں پر وزیر آئی ٹی امین الحق نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گرین لائن کے کچھ اسٹیشنز پر پتھراؤ کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مافیا سے کراچی والوں کے لیے جدید ٹرانسپورٹ سسٹم برداشت نہیں ہو رہا۔

امین الحق نے کہا کہ گرین لائن کی حفاظت کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے، اہلیان کراچی شرپسند عناصر کے عزائم ناکام بنائیں۔

وزیر آئی ٹی نے کہا کہ کراچی کے شہری گرین لائن کو اثاثہ سمجھتے ہوئے خیال رکھیں، شہر کو بدحال کرنے کے ذمہ دار عناصر منصوبہ ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی گرین لائن بس پر پتھراؤ کا نوٹس لے لیا، ڈی جی رینجرز سندھ کو فون کرکے واقعے پر گفتگو میں ہدایت کی کہ رینجرز اہلکار گشت کریں تاکہ ایسے واقعات سے نمٹا جاسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کو نقصان پہچانے کی کوشش تشویشناک ہے، ملوث عناصر کيخلاف کارروائی کرکے سزا دلوائیں گے۔