حکومت کو چائلڈ پورنو گرافی کی سزا بڑھانے کی ہدایت

سزا 14سے 20سال تک کی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
Jan 22, 2022

child-abuse-1

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/child-pornography-beeper.mp4"][/video]

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چائلڈ پورنو گرافی کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کو پیکا ایکٹ میں ترمیم کرکے چائلڈ پورنو گرافی کی سزا 14 سے 20 سال تک کرنے کی ہدایت کر دی۔

دوران سماعت عدالت نے چائلڈ پورنو گرافی کے مجرم شہزاد خالق کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے اس سنگین جرم میں عالمی معیار کے مطابق کیسز چلانے کے لیے گائیڈ لائنز بھی جاری کر دیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے تحریر کردہ 24 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ بچے کو عدالت میں ملزم کے ساتھ پیش نہ کیا جائے اور بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے، اگر ویڈیو ثبوت کی فرانزک ایجنسی سے تصدیق ہوجائے تو متاثرین کو عدالت بلانے کی ضرورت نہیں، ٹرائل کورٹس چائلڈ پورنوگرافی کے کیسز کا ان کیمرا ٹرائل یقینی بنائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں چائلڈ پورنو گرافی کی سزا 7 سال اور پاکستان پینل کوڈ میں 14 سال ہے۔

مجرم شہزاد خالق کے خلاف مقدمہ متاثرہ بچے کے والد کی شکایت پر 25 اگست 2019 کو درج کیا گیا تھا۔ فرانزک رپورٹ کے مطابق شہزاد کے موبائل فون سے 22800 تصاویر، 839 ویڈیوز ریکور ہوئیں اور بیشتر ویڈیوز میں وہ خود موجود ہے۔

سیشن کورٹ نے مجرم کو 2 ستمبر 2020 کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

فیصلے کے مطابق پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم کے قبضہ سے موبائل فون اور بغیر لائسنس کا پستول برآمد کیا، موبائل فون کی فرانزک رپورٹ نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبر کرائمز ایف آئی اے سے 3 ستمبر 2019 کو حاصل کی گئی۔

فرانزک رپورٹ میں سینکڑوں پورن ویڈیوز بنانے کی تصدیق ہوئی اور زیادہ تر ویڈیوز میں اپیل کنندہ خود موجود ہے، فرانزک رپورٹ سے ویڈیو کی تصدیق ہو جائے تو تمام متاثرہ افراد کو عدالت سمن کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اس کیس میں پیش ہوئے۔

Tabool ads will show in this div