دادو:میڈیکل کالج کی طالبہ کاکیس،مرکزی ملزم شمن سولنگی گرفتار

ملزم کو صوابی سے گرفتار کیا گیا
Jan 22, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Dr-Asmat-Jameel-beeper.mp4"][/video]

دادو میں میڈیکل کالج کی طالبہ کے کیس میں مطلوب مرکزی ملزم شمن سولنگی کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر تفتیشی پارٹی نے پشاور کے علاقے صوابی میں اہم کارروائی کرکے شمن سولنگی کو گرفتار کیا۔ قانونی کاروائی کے بعد ملزم کودادو لایا جائے گا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ شمن سولنگی اس کیس کا مرکزی ملزم تھا اور16 دن سے مفرور تھا، ملزم نے جعلی نکاح نامہ بنوا کر کالج کی طالبہ کوبلیک میل کیا تھا جس سے تنگ آکر طالبہ نے مبینہ خودکشی کی تھی۔ امداد سولنگی جھوٹے نکاح  کا گواہ تھا۔

پولیس نے 14 جنوری کو مرکزی ملزم شمن سولنگی کے بیٹا فیضان سولنگی کو گرفتار کیا تھا۔فیضان سولنگی جنسی ہراسانی میں باپ کے ساتھ ملوث تھا۔

تھانہ سیتا روڈ کا ایس ایچ اومعطل

طلبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے پر ڈی آئی جی حیدرآباد پیر سید محمد شاہ نے تھانہ سیتا روڈ کے ایس ایچ او کومعطل کردیا تھا۔

پولیس ترجمان نےبتایا کہ ایس ایچ او نے کیس میں غفلت،سست روی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔

لواحقین نے موقف اختیار کیا کہ اگر برقت شکایت کا ازالہ کیا جاتا اور کیس میں ملوث مرکزی ملزم شمن سولنگی گرفتار کرلیا جاتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔

 اس کیس میں پولیس نے متوفیہ کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون فرانزک کرانے کیلئے لیبارٹری بھیج دیا۔

نکاح خواں کا بیان

 نکاح نامے پر دستخط کرنے والے نکاح خواں سے پولیس نے ابتدائی تفتیش کی جس میں نکاح خواہ مولوی محمد ادریس کا کہنا تھا کہ مسجد میں تھا جب شمن سولنگی ساتھی سمیت آیا اور نکاح کے کاغذات پر دستخط کرائے اور چلا گیا۔

نکاح خواہ نے مزید بتایا کہ اس وقت لڑکی نہیں تھی، نہ نکاح پڑھایا اور نہ کچھ خبر ہے۔

علاوہ ازیں واقعے سے متعلق لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عصمت اور شمن سولنگی کی بیٹی بچپن میں ساتھ پڑھتے تھے، شمن سولنگی نے عصمت کا نمبر اپنی بیٹی سے حاصل کیا تھا۔

کیس کا مرکزی ملزم شمن سولنگی تاحال مفرور ہے، جس کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ملزم شمن سولنگی ودیگر نے متوفیہ کو بلیک میل کرکےشدید ذہنی دباؤ دیا جس کی وجہ سے عصمت نے خودکشی کی۔

چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی دادو کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے تھے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا اظہار افسوس کرتے ہوئے ورثاء کی مکمل مدد اور تعاون کا اعلان کیا۔

طالبہ کا والدین کو خط

طالبہ کی مبینہ خودکشی کے بعد ان کی والدہ کو اپنی بیٹی کا تحریر کردہ خط موصول ہوا تھا۔

طالبہ کی جانب سے خودکشی سے پہلے لکھے گئے خط میں والدین سے براہ راست مخاطب ہو کر معافی مانگی گئی، اس میں تحریر ہے کہ آپ دونوں نے میرے لیے بڑھاپے میں بہت محنت کی جس پر آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

 واضع رہے کہ دادو کےعلاقے سیتاروڈ میں پیپلز میڈیکل کالج نوابشاہ میں زیر تعلیم میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ کی لاش برآمد ہوئی تھی جسے گولی لگی ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ نے بلیک میلنگ سے تنگ آ کر خودکشی کی تھی، خودکشی سے 2 روز قبل طالبہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ سیتاروڈ پر 4 ملزمان پر بلیک میلنگ، ہراساں اور دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم شمن سولنگی نے جعلی نکاح نامہ بنوا کر لڑکی کو بلیک کیا اور وقفے وقفے سے 90 ہزار روپے بھی لئے۔

Tabool ads will show in this div