جج کواللہ اورآئين کا ڈرہوناچاہيے،جسٹس قاضی فائزعيسٰی

تقریب کا عنوان آئین اور قانون کی حکمرانی تھا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Qazi-Faez-Isa-Speech-Lhr-22-01.mp4"][/video]

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا ہے کہ جج کو اللہ کا اور آئين کا ڈر ہونا چاہيے۔

لاہورمیں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ہائیکورٹ بار میں منقعدہ تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب کا عنوان آئین اور قانون کی حکمرانی تھا۔

اپنےخطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ میں بہادر ہوں اور آئین اور قانون میں رہ کر فیصلے کرتا ہوں۔

انھوں نےکہا کہ میں مستقبل نہیں بلکہ آپ پاکستان کا مستقبل ہیں،قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئےمجموعی طور پر 44 سال ہوچکے ہیں اوراس تجربے سے جو کچھ سیکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ ملک میں جو قوانین بنائے جاتے ہیں وہ انگریزی زبان میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایوان میں جب بل پاس ہوتا ہے تو اس کو انگریزی کے ساتھ  اردو میں بھی شائع کروانا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ بہادرجج وہ ہوگاجو فيصلہ حق ميں دے، ميں نے جو سيکھا اور ہوتے ديکھا اور جو نتائج اخذ کيے وہ ہی سامنے رکھتاہوں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے تسلیم کیا کہ ہمارے ملک میں کیس کے فيصلے بہت دير سے ہوتے ہيں اور نہيں پتہ کہ فيصلے کا اونٹ کس کروٹ بيٹھے گا۔

اس سےقبل لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر محمد مقصود بٹرنے تقریب سے خطاب میں کہا کہ جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ نے ان طاقتوں کا سامنا کیا ہے  جہنوں نے اس ملک کواپنے پنجے میں جھکڑا ہوا ہے اوروہ لوگ  جوڈیشل سسٹم کو بھی آگے چلنے نہیں دینا چاہتے۔

مقصود بٹر کا کہنا تھا کہ کچھ طاقتیں پاکستان کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتی ہیں، عدالتوں میں کئی مقدمات سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوتے اور کچھ مقدمات کوتو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے،ایسے کئی کیسز کی ماضی میں مثالیں دیکھنے میں ملتی ہیں۔

Tabool ads will show in this div