اسلام آبادہائیکورٹ نےرانا شمیم پرعائدچارج شیٹ جاری کردی

کہ رانا شمیم نے دستاویزکو لیک کیا اورعدلیہ کو اسکینڈلائزکرنےکی کوشش کی
Jan 22, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم پرعائد چارج شیٹ جاری کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ رانا شمیم نے دستاویزکو لیک کیا اورعدلیہ کو اسکینڈلائز کرنےکی کوشش کی۔ نوٹرائزڈ ڈاکیومنٹ میڈیا کے ہاتھ لگا اورصحافی انصارعباسی تک پہنچا۔

چارج شیٹ میں بتایا گیاکہ ڈاکیومنٹ جب عدالت پہنچا تو کوریئرسروس کےلفافے میں تھا اور یہ آپ (رانا شمیم ) کےاس بیان کوجھٹلاتا ہے کہ وہ خود سیل کیا تھا۔

چارج شیٹ میں درج ہے کہ انصارعباسی کو نہ صرف بیان حلفی کی تصدیق کی بلکہ شائع کرنے سے نہیں روکا۔ رانا شمیم کےبقول بیان حلفی خفیہ تھا تولیک ہونے پرکوئی کارروائی نہیں کی،انھوں نےاپنےکنڈکٹ سےعدلیہ کی تضحیک کی۔

چارج شيٹ میں مزید بتایا گیا کہ عدالت میں زیرالتوا معاملے پراثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ 20 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کی تھی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی بھی اس طرح عدالت کی بے توقیری کرے، زیرِ سماعت کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ عدالت اوپن احتساب پر یقین رکھتی ہے اور اسے ویلکم کرتی ہے، جولائی 2018ء سے لے کر آج تک وہ آرڈر ہوا ہے جس پر یہ بیانیہ فٹ آتا ہو؟ ایک اخبار کے ایک آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثار سے نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نےمزید ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کے حوالے سے ہی تمام بیانیے بنائے گئے، آئینی عدالت کے ساتھ بہت مذاق ہوگیا، کسی بھی سائل کو بے توقیری کا ایک بھی موقع نہیں دے سکتے، لوگوں کو بتایا گیا کہ اس عدالت کے ججز کمپرومائزڈ ہیں، ایک کیس دو دن بعد سماعت کے لیے فکس تھا، جب اسٹوری شائع کی گئی۔

شاہ محمود قریشی کا رانا شمیم سے متعلق بیان

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی اجلاس میں رانا شمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامے میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ماتحت ججز کو احکامات جاری کیے، 3 سال پہلے واقعہ ہوتا ہے اور 3 سال تک کوئی بات، کوئی اظہار نہیں ہوتا، ایک آڈیو ٹیپ کئی دن میڈیا کی زینت اور موضوعِ بحث بنی، جب اس کا فرانزک کیا گیا تو وہ جعلی ثابت ہوئی۔ 3 سال بعد یہ معاملہ سامنے آتا ہے، حلف نامہ آتا ہے اور اسٹوری بریک ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حیرانی ہے کہ جس جج پر یہ الزام لگایا گیا وہ اس بینچ کے ممبر ہی نہیں ہیں، اس سے اس کی صداقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یہ بھی واضح ہوا کہ کس شہر میں کس کے سامنے یہ حلف نامہ ہوا، ہم سب کو اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف سب عدلیہ کی آزادی کے دعوے دار ہیں، مگر ہم کہتے کچھ اور کرتے کیا ہیں؟۔

دی نیوز اخبار کی رپورٹ

واضح رہے کہ 16 نومبر بروز پیر کو دی نیوز اخبار کی رپورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق متعدد دعویٰ کئے گئے، اس خبر میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب ثاقب نثار سال 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت گئے تو ایک شام ملاقات کے دوران رانا شمیم کے سامنے ثاقب نثار کو رجسٹرار کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔

جس میں ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ ایک جسٹس صاحب کے گھر جائیں  اور ان کو فوری طور پر ٹیلی فون کرنے کا کہیں۔ تاہم اس خبر میں جسٹس کا نام نہیں بتایا گیا۔

خبر میں مزید کہا گیا کہ ثاقب نثار نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ میاں محمد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کسی بھی صورت جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہیں ہونے چاہئے۔ ثاقب نثار نے یہ ہائیکورٹ کے جج کو یہ بھی ہدایت کی کہ مسلم لیگ نون کے رہنما انتخابات مکمل ہونے تک جیل میں رہنے چاہئے۔

خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ جب ثاقب نثار کو ٹیلی فون پر اس ہدایت کے پورا ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔ ثاقب نثار نے   سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کو یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے سے متعلق انجان بن جائیں۔

Tabool ads will show in this div