سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کی تقرری کانوٹیفکیشن جاری

پارليمانی کميٹی اورجوڈيشل کميشن نے تعيناتی کی سفارش کی تھی
Supreme Court

سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

پارليمانی کمی اور جوڈيشل کميشن نے ان کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کی سفارش کی تھی۔

وزارت قانون نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

عائشہ ملک پیر کو سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کے طور پر حلف اٹھائیں گی، چیف جسٹس گلزار احمد ان سے سپریم کورٹ میں ہونیوالی ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں حلف لیں گے۔

تقریب حلف برداری میں موجودہ ججز، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلز، سینئر وکلاء اور عدالتی عملہ بھی شریک ہوگا۔

جوڈیشل کمیشن نے 6 جنوری 2022ء کو جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ پہلی خاتون جج نامزدگی کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے نامزد کیا تھا۔

اس سے قبل ایک بار جوڈیشل کمیشن جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی تجویز مسترد کرچکا تھا۔

واضح رہے کہ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائیکورٹ میں دیگر ججز کے مقابلے میں سنیارٹی پر 5 ویں نمبر پر ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ ملک

بطور جج عائشہ اے ملک اب تک کئی اہم مقدمات کے فیصلے سُنا چکی ہیں، جن میں خواتین کے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کا مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے اس ٹیسٹ کو نامناسب اور خواتین کیلئے تکلیف دہ  قرار دیکر ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی میں خواتین کی تعیناتی کے کیس میں جسٹس عائشہ اے ملک نے خواتین کو بھرتی کرکے دفتری امور پر تعینات کرنے کا حکم سنایا اور قرار دیا کہ صنفی امتیاز پر خواتین کو نوکریوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

دیگر اہم مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماء کی درخواست پر شوگر ملز جنوبی پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں منتقل کرنے سے روکنے کا حکم، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی نیب کیس میں ضمانت کی حمایت شامل ہیں۔

تعلیمی قابلیت اور بطور قانون دان تجربہ

لاہور ہائیکورٹ کے ریکارڈ کے مطابق 1966ء میں پیدا ہونیوالی جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنی بنیادی تعلیم پیرس اور نیویارک سے حاصل کی جبکہ کراچی گرامر اسکول، کراچی سے سینئر کیمبرج کیا۔

انہوں نے لندن سے اے لیول، گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کراچی سے بی کام اور لاہور کے پاکستان کالج آف لاء سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔

عائشہ اے ملک نے امریکا سے ایل ایل ایم کیا، جہاں انہیں شاندار قابلیت کیلئے لندن ایچ گیمن فیلو 99-1998ء کا نام دیا گیا، 2001-1997ء کے دوران انہوں نے معروف قانون دان اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان فخرالدین جی ابراہیم کے ساتھ بطور اسسٹنٹ وکیل بھی کام کیا۔

Tabool ads will show in this div